منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

datetime 11  جولائی  2026 |

اسلام آباد(این این آئی) ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کی جانب سے مالی سال 2024ـ25 کیلئے جاری آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی ٹیکس بے ضابطگیوں، کم وصولیوں اور داخلی کنٹرول کے نظام کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بے ضابطگیوں کے باعث 323 ارب 34 کروڑ روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی، تاہم جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران صرف 43 ارب روپے کی وصولی ممکن ہو سکی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی آمدن اور اخراجات کا رسک بیسڈ آڈٹ کیا گیا، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور اسلام آباد میں خدمات پر سیلز ٹیکس کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ کے مطابق ایف بی آر کا داخلی کنٹرول نظام کمزور اور غیر مؤثر پایا گیاجبکہ محصولات کی کم رپورٹنگ، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانوں کی کم وصولی سمیت متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق 18 فیلڈ دفاتر نے 601 کیسز میں 15 ارب 29 کروڑ روپے کا کم از کم ٹیکس وصول نہیں کیاجبکہ 19 فیلڈ دفاتر نے 527 کیسز میں 117 ارب 77 کروڑ روپے کا سپر ٹیکس وصول نہیں کیاجبکہ 16 فیلڈ دفاتر نے ناقابل قبول اخراجات کے دعوؤں کے باعث 276 کیسز میں 24 ارب روپے کا انکم ٹیکس کم وصول کیادیگر کیسز میں قابل ٹیکس آمدن کے غلط تعین، اخراجات اور ان پٹ ٹیکس کی غلط تقسیم کے باعث بھی اربوں روپے کی کم وصولی سامنے آئی۔

سیلز ٹیکس کے شعبے میں بلیک لسٹڈ ٹیکس دہندگان کے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی نگرانی نہ ہونے کے باعث 159 کیسز میں 41 ارب 78 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیںجبکہ 20 فیلڈ دفاتر نے 870 کیسز میں 13 ارب 3 کروڑ روپے کا سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی کے شعبے میں درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی اور کم قیمت ظاہر کیے جانے کے باعث 9 ہزار 831 کیسز میں 3 ارب 56 کروڑ روپے کی محصولات کم وصول ہوئیں، اسی طرح ناقابل قبول ڈیوٹی اور ٹیکس چھوٹ، گودام سے تاخیر سے سامان نکالنے پر سرچارج کی عدم وصولی اور ضبط شدہ سامان فروخت نہ ہونے کے باعث بھی قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ ایف بی آر اپنے داخلی کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنائے، بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مستقل نگرانی کا نظام قائم کرے، ٹیکس دہندگان کے پروفائل کو ریٹرن فائلنگ سسٹم سے منسلک کیا جائے اور کم از کم ٹیکس و سپر ٹیکس کے درست تعین کے لیے رسک بیسڈ ڈیسک آڈٹ کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…