اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئر صحافی نجم سیٹھی اور صحافی منیب فاروق نے لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کیس پر اپنے اپنے تجزیے اور معلومات شیئر کرتے ہوئے مختلف نکات پر اظہارِ خیال کیا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ متاثرہ غیر ملکی خواتین پاکستان سے روانہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث مقدمے کی آئندہ کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مرکزی مدعیان ملک میں موجود نہ ہوں تو کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے، اور ایسی صورت میں مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف گواہی کا معاملہ بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب صحافی منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں اس کیس سے متعلق گردش کرنے والی بعض خبروں کو گمراہ کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں کئی غیر مصدقہ دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔
منیب فاروق کے مطابق رضا ڈار کی عمر تقریباً 25 سال ہے اور تقریباً ڈیڑھ سال قبل اسپین میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران ان کی ملاقات دو غیر ملکی خواتین سے ہوئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک خاتون کا تعلق وینزویلا جبکہ دوسری کا تعلق نیدرلینڈز سے ہے، تاہم دونوں اسپین میں مقیم تھیں۔ ان کے بقول دونوں فریقین کے درمیان کاروباری تنازع موجود تھا، جس کا تعلق کرپٹو کرنسی یا بٹ کوائن سے نہیں تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں رضا ڈار نے دونوں خواتین کو پاکستان مدعو کیا، جہاں انہیں مری اور شمالی علاقوں کی سیر بھی کرائی گئی۔ تاہم ان کے مطابق بعد میں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک مکان میں مبینہ طور پر زبردستی رکھا گیا، جس کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔
منیب فاروق کے مطابق متاثرہ خواتین میں سے ایک کے والد نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے خواتین کو بازیاب کرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران رضا ڈار سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متاثرہ خواتین کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے۔ ان کے مطابق خواتین نے اپنے بیانات میں جسمانی تشدد کا ذکر کیا، جبکہ جنسی زیادتی سے متعلق میڈیکل رپورٹس بعد میں موصول ہونا تھیں۔
منیب فاروق نے یہ بھی کہا کہ تمام گرفتار ملزمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں اور کیس کی تحقیقات قانون کے مطابق جاری ہیں۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ مقدمے کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے، جبکہ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار یا ان کے خاندان کی جانب سے پولیس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا۔
واضح رہے کہ نجم سیٹھی اور منیب فاروق کے یہ بیانات ان کے ذاتی تجزیوں اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالت کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔



















































