اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

غیرملکی متاثرہ خواتین کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا ،مطلب یہ ہے کہ رضا ڈار کیس ختم ہوگیا ہے،نجم سیٹھی

datetime 4  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئر صحافی نجم سیٹھی اور صحافی منیب فاروق نے لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کیس پر اپنے اپنے تجزیے اور معلومات شیئر کرتے ہوئے مختلف نکات پر اظہارِ خیال کیا ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ متاثرہ غیر ملکی خواتین پاکستان سے روانہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث مقدمے کی آئندہ کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مرکزی مدعیان ملک میں موجود نہ ہوں تو کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے، اور ایسی صورت میں مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف گواہی کا معاملہ بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب صحافی منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں اس کیس سے متعلق گردش کرنے والی بعض خبروں کو گمراہ کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں کئی غیر مصدقہ دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔

منیب فاروق کے مطابق رضا ڈار کی عمر تقریباً 25 سال ہے اور تقریباً ڈیڑھ سال قبل اسپین میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران ان کی ملاقات دو غیر ملکی خواتین سے ہوئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک خاتون کا تعلق وینزویلا جبکہ دوسری کا تعلق نیدرلینڈز سے ہے، تاہم دونوں اسپین میں مقیم تھیں۔ ان کے بقول دونوں فریقین کے درمیان کاروباری تنازع موجود تھا، جس کا تعلق کرپٹو کرنسی یا بٹ کوائن سے نہیں تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں رضا ڈار نے دونوں خواتین کو پاکستان مدعو کیا، جہاں انہیں مری اور شمالی علاقوں کی سیر بھی کرائی گئی۔ تاہم ان کے مطابق بعد میں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک مکان میں مبینہ طور پر زبردستی رکھا گیا، جس کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔

منیب فاروق کے مطابق متاثرہ خواتین میں سے ایک کے والد نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے خواتین کو بازیاب کرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران رضا ڈار سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متاثرہ خواتین کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے۔ ان کے مطابق خواتین نے اپنے بیانات میں جسمانی تشدد کا ذکر کیا، جبکہ جنسی زیادتی سے متعلق میڈیکل رپورٹس بعد میں موصول ہونا تھیں۔

منیب فاروق نے یہ بھی کہا کہ تمام گرفتار ملزمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں اور کیس کی تحقیقات قانون کے مطابق جاری ہیں۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ مقدمے کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے، جبکہ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار یا ان کے خاندان کی جانب سے پولیس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

واضح رہے کہ نجم سیٹھی اور منیب فاروق کے یہ بیانات ان کے ذاتی تجزیوں اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالت کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…