اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ایران امریکا معاہدے کی خبروں کے بعد ایرانی ریال میں بہتری، سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ گئی ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار دوبارہ اس کرنسی میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی جب ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی ہوئی تھی تو ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اسی تجربے کی بنیاد پر سرمایہ کار موجودہ حالات میں بھی ریال خریدنے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایک کروڑ ایرانی ریال کی پاکستانی روپے میں مالیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی خبروں کے بعد اس کی قدر میں دوبارہ بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔
ملک بوستان کے مطابق ایرانی ریال میں سرمایہ کاری سے منافع حاصل ہونے کے امکانات موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ اگر معاہدہ کامیاب نہ ہوا یا خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہو گئی تو ریال کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر کمی آ سکتی ہے۔ دوسری جانب پابندیوں میں نرمی اور ایرانی معیشت کی بحالی کی صورت میں اس کرنسی کی قدر مزید بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ طویل مدت کے بجائے مختصر مدت کی سرمایہ کاری کو ترجیح دیں اور محدود سرمایہ کاری کریں تاکہ ممکنہ مالی خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران پر عائد پابندیوں میں کمی آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی، توانائی کے شعبے میں اخراجات میں کمی اور ایرانی منڈیوں تک بہتر تجارتی رسائی جیسے فوائد حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔



















































