جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے پر بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے: لاہور ہائیکورٹ

datetime 25  جون‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق اہم تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے

قانونی نکتہ واضح کر دیا کہ رخصت نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہوتی ہے۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف نے اذکا آفرین کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا، اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا۔مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر جب مانگا جائے تب ہی واجب الادامانا جائے گا نکاح نامے میں لکھا گیا 10تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر ہے۔

فیصلے کے مطابق خلع یعنی عورت کی طرف سیشادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے، خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری ختم ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے۔ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے ازکا افرین کی درخواست منظور کر لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…