اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے نئے فنانس بل کے تحت درآمدی گاڑیوں پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے چھوٹی اور درمیانی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی جبکہ بڑی اور لگژری گاڑیوں پر ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔
نئی مالیاتی تجاویز کے مطابق مہنگی اور زیادہ انجن صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے کسٹم ڈیوٹی کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ یکم جولائی سے 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد کسٹم ڈیوٹی نافذ ہوگی۔
اسی طرح 3000 سی سی سے زائد انجن والی لگژری گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح بڑھا کر 92 فیصد مقرر کر دی گئی ہے، جس کا مقصد پرتعیش گاڑیوں کی درآمد کو محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب متوسط طبقے کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ چھوٹی اور درمیانی انجن کی گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ نئے فنانس بل کے تحت 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر ڈیوٹی 66 فیصد سے کم کرکے 42 فیصد کر دی گئی ہے۔
اسی طرح 1000 سے 1500 سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی کی مجموعی شرح 76 فیصد سے گھٹا کر 52 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔
حکومت نے 1500 سی سی سے زائد گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی میں کمی کی ہے، جبکہ 1800 سی سی انجن والی گاڑیوں پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی کی شرح کم کرکے 74 فیصد کر دی گئی ہے۔
نئی آٹو پالیسی کے تحت 1800 سی سی تک کی گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس سے اس کیٹیگری کی گاڑیوں کے خریداروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بھی نیا ڈیوٹی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ فنانس بل کے مطابق بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 30 سے 40 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
75 ہزار ڈالر تک مالیت رکھنے والی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ڈیوٹی وصول کی جائے گی، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زیادہ قیمت والی مہنگی اور لگژری ای وی گاڑیوں پر 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی نافذ ہوگی۔



















































