اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جرمنی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ ریاضی یواخم کلیمنٹ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں،
کیونکہ گزشتہ تین فٹبال ورلڈ کپ کے فاتحین سے متعلق ان کی پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں۔ اب شائقین یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ آیا ان کی تازہ پیش گوئی بھی حقیقت کا روپ دھارے گی یا نہیں۔یواخم کلیمنٹ نے 2014 کے عالمی کپ سے قبل جرمنی کی کامیابی کی پیش گوئی کی تھی، جو درست ثابت ہوئی۔ 2018 کے ٹورنامنٹ میں انہوں نے اپنی ہی قومی ٹیم کو فاتح قرار نہیں دیا اور جرمنی ابتدائی مرحلے ہی میں ایونٹ سے باہر ہوگیا۔ اسی برس انہوں نے فرانس کی کامیابی کی پیش گوئی کی، جبکہ 2022 کے عالمی کپ میں ارجنٹینا کو فاتح قرار دیا، جو بعد میں درست ثابت ہوئی۔اب وہ آئندہ فٹبال ورلڈ کپ کے حوالے سے بھی پیش گوئی کر چکے ہیں۔ اگرچہ اگلا عالمی کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا، لیکن ان کے مطابق ان تینوں ممالک میں سے کوئی بھی ٹیم ٹائٹل اپنے نام نہیں کر سکے گی۔کلیمنٹ کی رائے میں نیدرلینڈز عالمی کپ جیتنے کی مضبوط امیدوار ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈچ ٹیم اب تک اپنی تاریخ میں کبھی بھی ورلڈ کپ کا ٹائٹل حاصل نہیں کر سکی، اس لیے یہ پیش گوئی فٹبال حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔یواخم کلیمنٹ اپنی پیش گوئیوں کے لیے ایک خاص معاشی اور شماریاتی ماڈل استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف سماجی، معاشی اور کھیلوں سے متعلق عوامل کو مدنظر رکھ کر ٹیموں کی کامیابی کے امکانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ان کے ماڈل میں کسی ملک کی آبادی، موسمی حالات، کھیلوں کے انفراسٹرکچر، نوجوان ٹیلنٹ کی تربیت کے وسائل اور فیفا عالمی درجہ بندی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ آبادی والے ممالک کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہوتا ہے، جبکہ مناسب موسمی حالات کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیفا رینکنگ کسی بھی ٹیم کی موجودہ فارم اور مجموعی صلاحیت کو جانچنے کے لیے ایک اہم اشاریہ ہے۔اگر یواخم کلیمنٹ کی یہ نئی پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی تو نیدرلینڈز پہلی مرتبہ فٹبال کا عالمی تاج اپنے سر سجائے گا اور کھیل کی تاریخ میں ایک نئی داستان رقم کرے گا۔



















































