منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور 5 سالہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

datetime 22  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق اہم تجاویز سامنے آئی ہیں،

جن کے تحت ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور پرانی پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا رہا ہے۔

سید نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سیکریٹری تجارت جواد پال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پانچ سالہ پابندی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی کو 40 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد تک لانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت مختلف شعبوں میں ٹیرف کو مرحلہ وار کم کیا جا رہا ہے اور تجارتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹائزیشن کا عمل بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس بعض شعبوں میں ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد تک لائی جا چکی ہے جبکہ ٹیرف ڈھانچے میں مزید اصلاحات پر بھی کام ہو رہا ہے۔

سیکریٹری تجارت نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ماضی میں پرسنل بیگیج اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد میں بے ضابطگیوں کے متعدد کیسز سامنے آئے، جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام اور سفری دستاویزات کا غلط استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ درآمد ہونے والی گاڑیوں پر 62 حفاظتی معیارات کا اطلاق کیا جائے گا اور یہ اصول مقامی گاڑیوں پر بھی نافذ ہوں گے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ ماضی میں مقامی آٹو انڈسٹری کو غیر معمولی تحفظ فراہم کیا گیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں مقابلے کا رجحان محدود رہا۔ ان کے مطابق بعض حلقے درآمدی گاڑیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں، تاہم نئی پالیسی سے مسابقت میں اضافہ ہوگا اور صارفین کو بہتر اور سستی گاڑیاں دستیاب ہونے کی توقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…