بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

شنگھائی میں نئے سال کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے 35 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

datetime 1  جنوری‬‮  2015 |

شنگھائی۔۔۔۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق شنگھائی میں نئے سال کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے 35 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی زنہوا کے مطابق یہ بھگدڑ شہر کے ہوانگ پو ڈسٹرکٹ میں واقع چین یی سکوائر میں بدھ کی شب مچی۔شنگھائی کی شہری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ رات 11 بج کر 35 منٹ پر اس وقت پیش آیا جو عوام کی بڑی تعداد دریا کے کنارے سنہ 2015 کے استقبال کی تقریب میں شرکت کے لیے جمع تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ بھگدڑ سے 42 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور حالات سنبھالنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا ہے۔تاحال بھگدڑ مچنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے چین کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے کہا ہے کہ بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب ہجوم میں شامل افراد نے ایک عمارت سے پھینکے جانے والے نقلی کرنسی نوٹ جمع کرنے کی کوشش کی۔اس واقعے کے بعد چینی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور علاقہ خالی کروایا۔زنہوا کی جانب سے جاری کی گئی فوٹیج میں اس واقعے کے بعد ایک شخص کو ایک زخمی کو ابتدائی طبی امداد دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔حادثے میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو شنگھائی جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حادثے میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو شنگھائی جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔اس واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اس سے متعلق تصاویر گردش کرنے لگی ہیں جن میں سڑک پر پڑے لوگوں کو طبی امداد لیتے اور پولیس کی بھاری نفری کو علاقے میں دیکھا جا سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر اس حادثے کے عینی شاہدین نے بھی اپنے تاثرات درج کیے ہیں۔ ویئبو پر ایک خاتون صارف نے لکھا ہے ’وہاں واقعی بہت زیادہ لوگ تھے۔ جب آپ دب جائیں تو آپ الگ نہیں ہو پاتے صرف ہجوم کے ساتھ ساتھ حرکت کرتے ہیں۔‘ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موقع پر موجود ٹریفک پولیس نے بھگدڑ مچنے کے بعد انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر لوگوں کو الگ رکھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔شنگھائی کی پولیس نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر واقعے کے بارے میں لکھا تھا کہ کچھ ’سیاح‘ بند کے علاقے میں ایک دوسرے پر گر گئے ہیں۔ پولیس نے عوام سے منظم انداز میں یہ علاقہ خالی کرنے کو بھی کہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…