جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آم کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کی دوسری لڑکی بھی دم توڑ گئی، واقعے کی تحقیقات جاری

datetime 12  جون‬‮  2026 |

حیدرآباد (نیوز ڈیسک): بھارتی ریاست تلنگانہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں آم کھانے کے بعد بیمار ہونے والے ایک خاندان کی دوسری بچی بھی زندگی کی بازی ہار گئی، جس کے بعد گھر میں سوگ کی فضا مزید گہری ہوگئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج 10 سالہ سندھیا انتقال کر گئی۔ چند روز قبل اسی خاندان کی 17 سالہ بیٹی بھونیشوری بھی دورانِ علاج دم توڑ چکی تھی، جس کے باعث واقعے نے مقامی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وائجناتھ اور اندومتی نامی میاں بیوی کے گھر ان کی عزیزہ رینوکا ملاقات کے لیے آئی تھیں۔ گھر آتے ہوئے وہ کچھ آم خرید کر لائیں، جنہیں والدین اور ان کی چاروں بیٹیوں نے کھایا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق آم کھانے کے کچھ ہی وقت بعد تمام افراد کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور انہیں متلی اور الٹیوں کی شکایت شروع ہوگئی۔ حالت بگڑنے پر خاندان کے تمام افراد کو فوری طور پر ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

علاج کے دوران سب سے پہلے 17 سالہ بھونیشوری انتقال کر گئی، جبکہ کم عمر سندھیا کی حالت مسلسل تشویشناک رہی۔ بعد ازاں وہ بھی جانبر نہ ہو سکی اور اسپتال میں دم توڑ گئی۔

پولیس حکام کے مطابق والدین اور خاندان کی دیگر دو بچیوں کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آم کھانے کے بعد خاندان کے تمام افراد کی طبیعت کیوں بگڑی۔ اس مقصد کے لیے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں ماضی میں بھی بعض پھل کھانے کے بعد لوگوں کی طبیعت خراب ہونے اور اموات کے چند واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں تربوز سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…