لاہور (این این آئی)لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پراپرٹی فراڈ اور غیر قانونی لین دین کی روک تھام کے لیے اہم اور بڑا فیصلہ کر لیا ہے،
جس کے تحت یکم جولائی 2026ء سے پراپرٹی کی خرید و فروخت کے نظام میں مکمل ڈیجیٹل تبدیلی نافذ ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق ایل ڈی اے کی حدود میں آنے والی تمام ہائوسنگ سکیموں میں اب پراپرٹی کی خرید و فروخت صرف پی ایل آر اے کے پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کا لین دین قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جولائی 2026ء سے بغیر پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے لین دین پر ایل ڈی اے ایکٹ 1975ء کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ شہری اپنے پلاٹس اور جائیداد کو قانونی تحفظ دینے کے لیے پی ایل آر اے سے پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے، جس پر کیو آر کوڈ بھی موجود ہوگا، جس کے ذریعے جائیداد سے متعلق تمام تفصیلات ایک کلک پر حاصل کی جا سکیں گی۔ فیصلے کے مطابق ایل ڈی اے کی حدود میں فائلوں کی خرید و فروخت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی اور تمام نجی ہائوسنگ سکیمیں 30جون تک اپنا ریکارڈ پی ایل آر اے کے ہاسنگ سوسائٹیز مینجمنٹ سسٹم ایچ ایس ایم ایس پر منتقل کرنے کی پابند ہوں گی۔
ڈی جی ایل ڈی اے نے کہا کہ نجی ہائوسنگ سکیمیں ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے گرین سرٹیفکیٹ اور رجسٹری خود جاری کر سکیں گی جبکہ ان کا نظام سب رجسٹرار کے اختیارات کے مطابق مربوط کیا جا رہا ہے۔ ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کے مطابق جو سکیمیں اس نظام سے منسلک ہوں گی ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ انکار کرنے والی سکیموں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایل ڈی اے اور پی ایل اے آر اے کی جانب سے نجی سیکٹر کو نئے ڈیجیٹل سسٹم پر ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ پراپرٹی کے شفاف اور محفوظ لین دین کو یقینی بنایا جا سکے۔



















































