جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

گھر داماد نے 4 سال تعلقات کے بعد بھاگ کر ساس سے کورٹ میرج کرلی

datetime 9  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں ایک غیر معمولی اور متنازع واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانپور کی ایک مقامی عدالت میں ایک ایسے جوڑے نے شادی رجسٹر کروائی جس کا رشتہ پہلے داماد اور ساس کا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص اپنی بیوی کے گھر میں رہائش پذیر تھا اور اسی دوران اس کے اپنی ساس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں کے درمیان تعلقات کئی برس تک خفیہ رہے اور تقریباً چار سال بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر ازدواجی رشتہ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مقصد کے لیے داماد نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کی اور بعد ازاں ساس کے ساتھ شادی کر لی۔

اس شادی کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے نتیجے میں پولیس نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام نے انڈین میرج ایکٹ کے تحت واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کچھ عرصہ قبل اپنی بیوی کو چھوڑ کر گھر سے چلا گیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی ساس بھی گھر سے لاپتا ہے، جس پر اہلِ خانہ کو دونوں کے تعلقات کا علم ہوا۔

بعد ازاں دونوں کانپور کی ضلعی عدالت میں ایک وکیل کے ہمراہ پہنچے جہاں انہوں نے قانونی طور پر شادی کا اندراج کروایا۔ تقریب کے دوران ایک دوسرے کو ہار پہنائے گئے اور موجود افراد سے دعائیں بھی لی گئیں۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ متعدد افراد نے اس اقدام کو خاندانی روایات اور سماجی اقدار کے منافی قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…