جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نمک اور آئینوں سے لاکھوں گھروں کو بجلی فراہم، حیرت انگیز منصوبہ

datetime 23  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بیجنگ: چین نے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے نمک اور ہزاروں آئینوں کی مدد سے

کم لاگت بجلی پیدا کرنے کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے، جسے دنیا بھر میں حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس منفرد نظام میں تقریباً 12 ہزار آئینے سورج کی روشنی کو ایک بلند و بالا ٹاور پر مرکوز کرتے ہیں۔ یہ ٹاور تقریباً 80 منزلہ عمارت جتنی بلندی رکھتا ہے۔ شدید حرارت کے باعث ٹاور کے اندر موجود نمک کا درجہ حرارت 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

بعد ازاں اس گرم نمک کو خصوصی محفوظ ٹینکوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں اس کی حرارت سے پانی کو بھاپ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہی بھاپ ٹربائنز چلا کر بجلی پیدا کرتی ہے، جو بعد میں لاکھوں گھروں تک پہنچائی جاتی ہے۔

چینی حکام کے مطابق اس نوعیت کے کئی مزید منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، جن سے مجموعی طور پر تقریباً 3 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ منصوبے مکمل ہونے کے بعد بڑی تعداد میں گھروں کو متبادل توانائی فراہم کی جائے گی۔

چین نے 2030 تک اس ٹیکنالوجی کے ذریعے 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مقدار سردیوں میں پاکستان کی مجموعی بجلی ضرورت کے برابر سمجھی جا سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کلین انرجی منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ تیل اور گیس پر انحصار بھی کم ہو رہا ہے۔

اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ نمک حرارت کو طویل وقت تک محفوظ رکھ سکتا ہے، جس کے باعث سورج غروب ہونے کے بعد بھی تقریباً 11 گھنٹے تک بجلی پیدا کرنا ممکن رہتا ہے، جبکہ عام لیتھیم بیٹریاں محدود دورانیے کے لیے بیک اپ فراہم کرتی ہیں۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے صحرائی علاقوں میں بھی ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے تو ملک میں سستی اور ماحول دوست بجلی کے نئے ذرائع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…