پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو واشنگٹن سب کچھ معاف کر دے گا‘‘ پاکستانی سفیر کا مبینہ سائفر منظر عام پر

datetime 18  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک نجی ویب سائٹ ’’ڈراپ سائٹ‘‘ نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں

زیرِ بحث آنے والے مبینہ ’’سائفر‘‘ سے متعلق خفیہ دستاویز حاصل کرنے اور اسے عوام کے سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ سفارتی مراسلہ اُس وقت امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید کی جانب سے ارسال کیا گیا تھا، جس میں امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تفصیلات درج ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ یہی سائفر ان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی مداخلت کا ثبوت تھا۔ مبینہ دستاویز کے مطابق ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک پاکستان کے یوکرین معاملے پر اختیار کیے گئے مؤقف پر تشویش رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی غیر جانبداری کی پالیسی دراصل عمران خان کی ذاتی حکمتِ عملی ہے تاکہ وہ اندرونِ ملک خود کو آزاد خارجہ پالیسی کے حامل رہنما کے طور پر پیش کر سکیں۔

مبینہ سائفر کے مطابق پاکستانی سفیر نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی مختلف ریاستی اداروں کی مشاورت سے طے کی گئی تھی۔ انہوں نے امریکی حکام سے یہ بھی سوال کیا کہ آیا اقوامِ متحدہ میں ووٹنگ کے دوران پاکستان کی غیرحاضری امریکہ کی ناراضی کا سبب بنی؟ اس پر ڈونلڈ لو نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ اصل مسئلہ عمران خان کا ماسکو کا دورہ تھا۔

دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی عہدیدار نے کہا اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو واشنگٹن میں معاملات بہتر سمجھے جائیں گے، بصورتِ دیگر تعلقات میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفیر نے امریکی مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ روس کا دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس وقت تک یوکرین پر حملہ شروع نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ انہی دنوں کئی یورپی رہنما بھی ماسکو جا رہے تھے۔

اس کے جواب میں ڈونلڈ لو نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ یورپی رہنماؤں کے دورے یوکرین تنازع کے حل کے لیے تھے جبکہ پاکستانی وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں تھا۔ پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ عمران خان نے ماسکو میں موجودگی کے دوران جنگی صورتحال پر افسوس کا اظہار بھی کیا تھا اور سفارتی حل کی امید ظاہر کی تھی۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی سفیر نے امریکہ کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اہم معاملات پر پاکستان کی حمایت چاہتا ہے لیکن کشمیر جیسے اہم مسئلے پر پاکستان کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کرتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یوکرین معاملہ امریکہ کے لیے اتنا حساس تھا تو پاکستانی قیادت سے پہلے رابطہ کیوں نہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ لو نے جواب میں کہا کہ امریکہ اس وقت پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی رابطوں کے لیے موزوں وقت نہیں سمجھتا اور سیاسی استحکام کا انتظار کرنا بہتر خیال کیا جا رہا ہے۔

مبینہ سائفر کے اختتام پر پاکستانی سفیر نے سفارش کی کہ اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور کے سامنے سفارتی احتجاج ریکارڈ کرانے پر غور کیا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…