منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایک گانے کی وجہ سے ملک بھر میں گرفتاریاں، 36 سال پرانا گانا منچلوں کو مہنگا پڑ گیا

datetime 18  مئی‬‮  2026 |

ممبئی (این این آئی)فلمی دنیا میں گانوں کی مقبولیت کے تو بہت سے قصے سنے ہوں گے،

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سینما کی تاریخ میں ایک گانا ایسا بھی تھا جس کی وجہ سے ملک بھر میں لوگوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑ گئی تھی؟ یہ حیرت انگیز صورت حال 1989 میں ریلیز ہونے والی مشہور ایکشن فلم تری دیو کے ایک سپر ہٹ گانے کی وجہ سے پیش آئی تھی۔ہدایت کار راجیو رائے کی فلم تری دیو نے اس دور میں کامیابی کے نئے ریکارڈ بنائے تھے اور تین فلم فیئر ایوارڈز بھی اپنے نام کیے تھے، لیکن اس کا ایک گانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سردرد بن گیا تھا۔فلم تری دیو اپنے وقت کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی، جس میں سنی دیول، جیکی شروف، نصیر الدین شاہ، مادھوری ڈکشت اور امریش پوری جیسے نامور اداکاروں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔فلم کا ایک گانا اوئے اوئے اس دور میں ہر زبان پر عام تھا اور اس نے موسیقی کی دنیا میں دھوم مچا دی تھی۔اس مشہور گانے کی موسیقی کلیان جی آنند جی کی جوڑی نے ترتیب دی تھی، جبکہ اسے کویتا کرشنا مورتی اور سریش واڈکر نے گایا تھا۔

یہ گانا اس وقت کے ایک عالمی شہرت یافتہ گانے سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔گانے کی مقبولیت جہاں فلم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی، وہی کچھ منچلے لڑکوں نے اس کا غلط استعمال شروع کر دیا۔فلم کے ڈائریکٹر راجیو رائے نے ایک انٹرویو میں اس دلچسپ اور حیران کن واقعے سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ اوئے اوئے گانے پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی تو نہیں لگائی گئی تھی، لیکن یہ گانا کچھ غلط کاموں کی وجہ سے بدنام ضرور ہو گیا تھا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اس دور میں لوگ راستوں اور بازاروں میں اوباش گردی اور خواتین کو تنگ کرنے کے لیے اوئے اوئے کا نعرہ لگانے لگے تھے۔خواتین سے بدتمیزی اور چھیڑ چھاڑ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے پولیس کو ایکشن لینا پڑا، جس کے بعد اس گانے کا سہارا لے کر آوازیں کسنے والے متعدد افراد کو ملک کے مختلف حصوں سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…