جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے مدرسے میں لگے ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ پنکھے نے سیکیورٹی فورسز کی دوڑیں لگوادیں

datetime 13  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع کُشی نگر میں ایک مدرسے کے پنکھے پر ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کا لیبل سامنے آنے کے بعد معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا،

جس کے بعد پولیس نے دو افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قادریہ حکیم العلوم مدرسے میں نصب پنکھے کی تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی، جس کے بعد مقامی افراد نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بتایا گیا کہ یہ پنکھا مدرسے کو گاؤں کے رہائشی شمس الدین نے تقریباً تین سال قبل عطیہ کیا تھا۔مدرسے کے استاد محمد معراج الدین کے مطابق جب پنکھا خراب ہوا تو اسے مرمت کے لیے ایک مکینک کے پاس لے جایا گیا، جہاں معلوم ہوا کہ اس پر ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ درج ہے۔ بعد ازاں کسی نے دکان پر موجود پنکھے کی تصویر لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی، جس کے بعد پولیس مدرسے پہنچ گئی۔چونکہ کُشی نگر کا علاقہ نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے، اس لیے معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے بارڈر سیکیورٹی کے تناظر میں بھی جانچا گیا۔

ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کیشو کمار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔پولیس کے مطابق مدرسے کے منتظم محمد یونس اور شمس الدین سے پوچھ گچھ کی گئی۔ دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ شمس الدین کا بیٹا واجد انصاری گزشتہ دس برس سے سعودی عرب میں ملازمت کر رہا تھا۔ اس نے 2020 میں تقریباً 80 ریال مالیت کا پنکھا خریدا اور کارگو کے ذریعے گھر بھجوا دیا تھا، جبکہ 2023 میں یہ پنکھا مدرسے کو عطیہ کر دیا گیا۔وشنو پورہ تھانے کے انچارج ونے مشرا کے مطابق متعلقہ افراد نے خریداری سے متعلق دستاویزات بھی پیش کیں۔ پولیس نے تمام ریکارڈ کی تصدیق اور مکمل تحقیقات کے بعد کسی قسم کا مشکوک پہلو نہ ملنے پر حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کر دیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…