جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایٹمی تنصیبات ختم کرنے سے انکار، امریکی تجویز پر ایرانی جواب کی تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 11  مئی‬‮  2026 |

نیویارک /تہران (این این آئی)پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھیجے گئے ایرانی جواب میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور تہران پر عائد پابندیاں ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ایرانی نیوزایجنسی نے مزید کہا کہ ایرانی تجویز میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں 30 دنوں کے اندر ختم کی جائیں اور ایران کا بحری محاصرہ ختم کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ایرانی تجویز میں جنگ کے فوری خاتمے اور اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ ایران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی ضرورت پر بھی سخت اصرار کیا ہے۔ایجنسی نے ذریعے کے حوالے سے نقل کیا کہ تہران کے مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر امریکہ کچھ مخصوص وعدے کرے تو آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے پاس رہے گا، تاہم ذریعے نے ان وعدوں کی نوعیت واضح نہیں کی۔امریکی اخبار نے بھی امریکی تجویز پر ایرانی جواب کے خدوخال ظاہر کیے ہیں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق تہران نے اپنی ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے، البتہ وہ اعلی سطح پر افزودہ یورینیم کو کم کرنے اور باقی ماندہ ذخیرہ کسی تیسرے ملک منتقل کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔اخبار کے مطابق ایران نے اگلے 30 دنوں میں ایٹمی مسائل پر بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ تہران نے تجویز دی ہے کہ محاصرہ ختم کرنے کے بدلے جنگ ختم کی جائے اور آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولا جائے۔ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تہران نے امن کی تازہ ترین امریکی تجویز کے جواب میں اپنے ایٹمی پروگرام کے مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے سارا زور خطے میں جاری جنگ کے خاتمے پر دیا ہے۔

پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے جوابی مسودے میں ایٹمی پروگرام جیسے حساس معاملات پر بات چیت سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ دوبارہ جنگ شروع کرنے سے پہلے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دے رہے ہیں۔آبنائے ہرمز موجودہ تنازع کا سب سے حساس نکتہ ہے کیونکہ جنگ چھڑنے سے قبل دنیا کی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ یہاں سے گزرتا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق ایران نے اس اسٹریٹجک بحری گزرگاہ سے غیر ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت کو کافی حد تک محدود کر دیا ہے۔جوابی کارروائی کے طور پر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے اور جمعہ کے روز امریکی افواج نے ایرانی تیل کے ان دو ٹینکروں کو نشانہ بنایا جنہوں نے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تھی۔پاسداران انقلاب کی بحریہ پہلے ہی متنبہ کر چکی ہے کہ ایرانی تیل بردار جہازوں یا تجارتی جہازوں پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں موجود امریکی اڈوں اور دشمن جہازوں پر بھاری حملے کی صورت میں دیا جائے گا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…