جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی ایران جنگ بندی کوششیں، یو اے ای ناراض، پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی شروع، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

datetime 11  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں اب متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں اماراتی حکام نے بڑی تعداد میں پاکستانی کارکنوں کو گرفتار کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس سے پاکستان کے لیے بیرون ملک روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امارات کو اس بات پر تحفظات ہیں کہ پاکستان نے امارات پر ہونے والے ایرانی حملوں کی واضح اور کھل کر مذمت نہیں کی۔ دوسری جانب اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور امن کوششوں میں بھی متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران امارات کو ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق امارات میں مقیم 20 سے زائد پاکستانی شیعہ شہریوں نے اخبار کو بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انہیں اچانک حراست میں لیا گیا، کچھ وقت تک زیرِ حراست رکھا گیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا۔ اسی طرح وہاں کاروبار کرنے والے آٹھ افراد نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کے پاکستانی ملازمین کو حالیہ عرصے میں واپس پاکستان بھیجا گیا ہے۔پاکستانی شیعہ مذہبی شخصیات کے مطابق اپریل کے وسط سے اب تک ہزاروں شیعہ پاکستانیوں کو امارات سے نکالا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ شیعہ آباد ہیں جن کے ایران کے ساتھ مذہبی روابط موجود ہیں، جبکہ ملک میں فرقہ وارانہ حساسیت بھی ایک اہم مسئلہ سمجھی جاتی ہے۔

تاہم ان بے دخلیوں کی وجوہات اب تک مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔ پاکستان اور امارات دونوں سرکاری سطح پر یہی مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ان کے دوطرفہ تعلقات بدستور مضبوط اور مستحکم ہیں۔دوسری جانب دفتر خارجہ پاکستان نے پاکستانی شہریوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق صرف ایسے افراد کو واپس بھیجا گیا جو مبینہ طور پر جرائم میں ملوث تھے۔ تاہم انہوں نے اس سوال پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا کہ آیا شیعہ پاکستانیوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔ادھر اماراتی حکام نے اس معاملے پر میڈیا کی جانب سے کیے گئے سوالات کا تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…