اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت نے زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے امداد کی اپیل کردی

datetime 29  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت نے زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرکے سب کو حیران کردیا،زلزلہ تباہ کن ضرور تھا مگر اس قدر بھی نہیں کہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت اپنے وسائل سے اس مسئلے سے نہ نمٹ سکتی۔خیبرپختونخوا حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن میں زلزلہ کی تباہ کاریوں کے پیش نظر عالمی برادری سے بھی امداد کی اپیل کردی ہے اور واضح کیا ہے کہ دیربالا اور چترال سمیت بالائی علاقوں میں شدید سردی اور برفباری کے پیش نظربے گھر خاندانوں کو محفوظ پناہ گاہوں ، غذائی اشیاءاور طبی امداد کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی ناگزیر ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت کو عالمی برادری اور بین الاقوامی این جی اوز کی مدد بھی درکار ہے تاہم یہ امداد محض پیشکشوں، وعدوں اور اور یقین دہانیوں کی بجائے عملی صورت میں اور فوری بنیادوں پر ہوجانی چاہئے صوبائی سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے دیر بالا میں مسلسل تیسرے روز زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران یہ باضابطہ اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے زلزلہ کے فوری بعد ریسکیو اور ریلیف کا عمل شروع کیا اور مشترکہ امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا گیا جبکہ زلزلہ زمین کی زیادہ گہرائی میں ہونے کے سبب پہلے کی نسبت کم نقصانات کا ابتدائی اندازہ لگایا گیا مگر اب یہ حقیقت بھی سامنے آگئی ہے کہ حالیہ زلزلہ دیر، شانگلہ اور چترال سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں 2005ئ کے زلزلے سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے جہاں سینکڑوں انسانی اموات اور ہزاروں زخمی ہونے کے علاوہ لاتعداد خاندان بے گھر ہو کر سخت سردی اور برفباری میں کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے بتایا کہ صرف دیر اپر میں زلزلہ سے ابتدائی سروے کے مطابق 50سکول مکمل تباہ ہو گئے، 127سکولوں کو جزوی نقصان پہنچا، دو ہزار سے زائد گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے اور سینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی تلف ہوئے جبکہ بی ایچ یوز، ڈسپنسریوں اور طبی سہولیات کا بھی ستیاناس ہوگیا ہے شدید غربت کے باعث زلزلہ متاثرین کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھی مشنری جذبے سے انکی جلد از جلد مدد میں ہماری بھرپور مدد کرے عنایت اللہ نے جو جماعت اسلامی کے صوبائی پارلیمانی لیڈربھی ہیں اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ انکی جماعت اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے علاوہ بعض ملکی و مقامی این جی اوز بھی ریلیف کے عمل میں شریک ہو گئی ہیں تاہم زیادہ نقصانات اور متاثرین کی شدید ضروریات کے مقابلے میں حکومت اور انکی مدد آٹے میں نمک کے برابر بن جاتی ہے انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض عالمی اداروں نے زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے صوبائی حکومت اور خود ان سے بھی رابطے کئے ہیں تاہم متاثرین کو فوری ریلیف اور بحالی کی اشد ضرورت ہے ورنہ شدید سردی سے بھوک، بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور المیے بھی جنم لے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع دیر بالا میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھی صورتحال کافی گھمبیر ہو گئی ہے نقصانات ہمارے اندازے سے بھی زیادہ ہیں یہاں سینکڑوں بے گھر خاندانوں کیلئے عارضی پناہ گاہوں، خوراک، ادویات اور دیگر سہولیات کا ہنگامی بنیادوں پر بندوبست لازمی ہے ان تمام ناگزیر ضروریات کی تکمیل اکیلے ہماری حکومت کے بس میں نہیں اور ہمیں عالمی تعاون بھی درکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…