منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ

datetime 29  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال ثاقب نے ایکسچینج ایسوسی ایشن کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ای کیپ کے صدر ظفر پراچہ و دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال ثاقب کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کے دوران کہا کہ کرپٹو کرنسی اگر ایک مستحکم ڈیجیٹل کرنسی بن گئی تو اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات لمحوں میں منتقل ہوسکیں گی اور ترسیلات زر کا سالانہ حجم 38ارب ڈالر سے بڑھ کر 50ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان قیادت کی کوششوں سے پاکستان میں کرپٹو کونسل کو قانونی حیثیت حاصل ہوئی ہے، کرپٹو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان کرپٹو کونسل کی کوششوں کے بدولت اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کی جانب سے کرپٹو میں ٹریڈنگ کرنے کے خواہشمندوں کو کونسل کی این او سی سے مشروط بینکوں میں کرپٹو اکاونٹس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ فی الوقت 4کروڑ پاکستانی 5سے 6فیصد لاگت پر کرپٹو میں ٹریڈنگ کررہے ہیں، اگر ڈیجیٹل لائسنس کا اجرا شروع ہوجائے تو یہ لاگت ایک فیصد رہ جائے گی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان کرپٹو کونسل باہمی اشتراک سے ایسے قوانین مرتب کررہے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف اور سی ڈی ڈی کے تحت شفاف طریقے سے عمل درآمد ممکن ہوسکے۔اجلاس میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کو بھی کرپٹو لائسنسنگ میں شمولیت کی تجویز پر پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال ثاقب نے کہا کہ پہلے مرحلے میں انفرادی سطح پر این او سی کے اجرا کے بعد دوسرے مرحلے میں ایکسچینج کمپنیوں کو بھی کونسل کی جانب سے این او سی جاری کیے جائیں گے تاکہ ایکس چینج کمپنیاں بھی قانونی طریقے سے کرپٹو میں ٹرانزیکشنز کرتے ہوئے معیشت میں اپنے کردار کو بڑھا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…