منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاسپورٹ بنوانے والوں کے لیے بڑی خبر آگئی

datetime 28  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)ڈی جی امیگریشن نے شہریوں کو پاسپورٹ دفاتر میں بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی پاسپورٹ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ترجمان محکمہ پاسپورٹ کے مطابق عوام کو پاسپورٹ دفاتر میں بہتر خدمات دینے کے لیے جدید نظام کو مرحلہ وار شامل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاسپورٹ کے حصول کے عمل میں انسانی مداخلت کم کرنا اور اسے زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل بنانا ہے تاکہ شہریوں کو آسانی میسر آ سکے۔اجلاس کے دوران ڈی جی امیگریشن نے پاسپورٹ کے اجرا کے نظام کو مزید تیز، مؤثر اور شفاف بنانے کی ہدایت جاری کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاسپورٹ کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر ہرگز قبول نہیں کی جائے گی اور تمام درخواستوں پر مقررہ مدت میں کارروائی یقینی بنائی جائے۔حکام کے مطابق ان اپ گریڈز سے درخواست دینے کا طریقہ آسان ہوگا اور پاسپورٹ کے حصول میں تاخیر جیسے مسائل کم کرنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…