واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ایران کے ساتھ اگلی ملاقات ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے،
اچھا لگ رہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، ایران کے ساتھ ڈیل ہوگئی تو اسلام آباد جاؤں گا۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے ایران جنگ بندی معاہدے پر کردار کو سراہا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی میں بہت عمدہ رہا ہے، ایران سے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، اگر ایران کیساتھ ڈیل نہیں ہوگی تو دوبارہ جنگ شروع ہوجائے گی، ایران آج وہ کام کرنے کو تیار ہے جو وہ پہلے نہیں کرتا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نہیں معلوم کہ ایران سے جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت ہوگی، آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اچھی طرح سے برقرار ہے، ایران اس بات پر متفق ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، ایران نے “نیوکلیئر ڈسٹ” واپس دینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران سے معاہدہ ہوجاتا ہے تو تیل اور دیگر چیزوں کی قیمتیں کم ہوں گی، مہنگائی بھی کم ہوگی۔امریکی صدر نے کہا کہ لبنانی حکومت جنگ بندی کیلئے حزب اللہ کیساتھ مل کر کام کرے گی،
لبنان میں ہونے والی جنگ بندی میں حزب اللہ بھی شامل ہے، وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کریں گے، تاہم انہوں نے اس ملاقات کی تاریخ نہیں بتائی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ پوپ لیو سے ملاقات کرنا ضروری ہے، یہ بہت اہم ہے کہ پوپ لیو سمجھیں کہ ایران دنیا کیلئے خطرہ ہے، میرا حق ہے کہ میں پوپ لیو سے اختلاف رائے کروں۔



















































