اسلام آباد (نیوزڈیسک) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اسلام آباد آمد میں تاخیر اور غیر معمولی فضائی راستے کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران سے متعلق جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے امریکی نائب صدر کا خصوصی طیارہ مقررہ وقت سے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تاخیر سے اسلام آباد پہنچا۔ شیڈول کے مطابق وفد نے صبح 7 بجے پہنچنا تھا، تاہم پرواز تاخیر کا شکار رہی۔ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کو عام حالات میں ایک اسٹاپ اوور کے ساتھ تقریباً 15 گھنٹوں میں منزل تک پہنچنا تھا۔ یہ پرواز امریکی ریاست میری لینڈ کے کیمپ اسپرنگ بیس سے پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 47 منٹ پر روانہ ہوئی اور تقریباً 14 گھنٹے 20 منٹ کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچی۔ اس دوران طیارے نے پیرس میں لگ بھگ ڈھائی گھنٹے کا قیام بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق اس پرواز نے روایتی راستہ اختیار کرنے کے بجائے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود سے گریز کیا اور ایک متبادل روٹ استعمال کیا۔ طیارہ جارجیا، آذربائیجان، ترکمانستان اور سمرقند کے راستے تاجکستان پہنچا۔مزید یہ کہ طیارے نے افغانستان کی فضائی حدود سے بھی گریز کیا اور رات 10 بجے کے قریب چترال کے نزدیک پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ بعد ازاں امریکی ائیر فورس کے سی 32 اے طیارے نے 10 بج کر 33 منٹ پر نور خان ایئر بیس پر لینڈ کیا، جہاں پاکستانی فضائیہ نے اس کا استقبال کیا۔



















































