واشنگٹن (این این آئی ) سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے 2017 میں بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ساتھ رابطوں کے دوران خود کو ٹرمپ کے وائٹ ہائوس تک رسائی رکھنے والا فرد ظاہر کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پیغامات کے مطابق بھارتی معروف کاروباری شخصیت مکیش امبانی کے بھائی انیل امبانی نے ایپسٹین سے بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعلقات اور واشنگٹن ڈی سی میں حکام سے رابطوں کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی۔مارچ 2017 کی ایک گفتگو میں انیل امبانی نے پوچھا کہ آیا ڈیوڈ پیٹریاس کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کیا جا رہا ہے؟ جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں معلوم کرے گا اور بعد میں بتایا کہ یہ معاملہ زیرِ غور نہیں، بعد ازاں یہ عہدہ نومبر 2017 میں کینتھ جسٹر کو سونپا گیا۔جولائی 2017 میں ایپسٹین نے امبانی کو بتایا کہ جان بولٹن جلد ہی ایچ آر میک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر بنیں گے، جو بعد میں درست ثابت ہوا۔رپورٹس کے مطابق ایپسٹین نے امبانی کو ٹرمپ کے قریبی افراد سے ملوانے کی پیشکش بھی کی۔پیغامات میں امبانی نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ بھارتی قیادت، بشمول مودی کی حکومت نے ایپسٹین سے جیرڈ کشنر اور بینن کے ساتھ ملاقاتوں کے انتظام میں مدد طلب کی۔
ایپسٹین نے امبانی کو مشورہ دیا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط مضبوط کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وزیرِ اعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 2 ارب ڈالرز کے دفاعی معاہدے زیرِ بحث تھے۔رپورٹس کے مطابق امبانی 2019 میں بھی ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں رہے جب ان کے کاروبار کو مالی مشکلات کا سامنا تھا، اسی سال 23 مئی کو دونوں کی نیویارک میں ملاقات بھی ہوئی، جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کے دن تھی۔کچھ پیغامات میں ڈیزرٹ اور فن جیسے الفاظ کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم ان کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔



















































