منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں

datetime 6  اپریل‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں۔

ان کے مطابق موثر موٹر سائیکل مالکان کے لیے 20 لیٹر پر 57 روپے فی لیٹر سبسڈی جاری کر دی گئی ہے جبکہ سندھ حکومت 100 روپے فی لیٹر ادا کرے گی اور سبسڈی کا اجرا شروع ہو چکا ہے۔وزیراعلی مراد علی شاہ نے صحافیوں کو موٹر سائیکل رجسٹریشن کا عملی ڈیمو بھی دیا اور بتایا کہ سبسڈی حاصل کرنے کے لیے موٹر سائیکل کا صارف کے نام پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ایکسائز کی ویب سائٹ پر طریقہ کار کی ویڈیو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ 500 روپے ٹرانسفر فیس ختم کر دی گئی ہے جبکہ صوبے بھر میں ایکسائز دفاتر رات بارہ بجے تک کھلے رہیں گے۔ ہفتہ اور اتوار کو بھی موٹر سائیکل ٹرانسفر کرائی جا سکے گی۔ایکسائز ٹیکس پورٹل کے ذریعے سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کی جا سکتی ہے جبکہ موبائل ایپلی کیشن بھی تیار ہے جو آئندہ تین روز میں فعال ہو جائے گی۔ پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام کے تحت شناختی کارڈ نمبر اور رجسٹریشن نمبر درج کر کے آسانی سے رجسٹریشن مکمل کی جا سکے گی۔انہوں نے کہا کہ سبسڈی کی رقم براہ راست بینک اکانٹ میں منتقل کی جائے گی، رجسٹریشن کے لیے آئی بی اے این نمبر درج کرنا ہوگا۔ کوائف مکمل کرنے پر صارف کو میسج اور ٹریکنگ آئی ڈی موصول ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے بعد ہر تین گھنٹے بعد ڈیٹا ای میل کے ذریعے سندھ بینک کو ارسال کیا جائے گا، غلط کوائف جمع کرانے کی صورت میں ادائیگی روک دی جائے گی جبکہ بینک اکانٹ کی تصدیق موٹر سائیکل کی ملکیت سے کی جائے گی۔ سندھ بینک میں اکانٹ ہونے پر 24 گھنٹوں میں تصدیق ہوگی جبکہ دیگر بینکوں سے تصدیق اور ادائیگی میں تقریبا تین روز لگیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کوائف کی درستگی کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے، جبکہ ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک فیول سبسڈی دی جائے گی۔ سندھ میں 67 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں اور اپریل کی سبسڈی اپریل میں ہی ادا کی جائے گی۔

وزیراعلی کے مطابق ہر شخص کا بینک اکائونٹ ہونا چاہیے اور موٹر سائیکل مالکان کی اکثریت کے پاس اکانٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، بصورت دیگر اسے جرم تصور کیا جائے گا اور عوام کی نشاندہی پر کارروائی ہوگی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں 470 پبلک ٹرانسپورٹ بسیں جبکہ نجی شعبے کے تحت تقریبا 11 ہزار بسیں چل رہی ہیں، اس لیے حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کے بجائے نجی ٹرانسپورٹ کو رعایت دینے کا ماڈل اپنایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے بتایا کہ تاجروں سے بھی مشاورت جاری ہے اور وفاق کو اسٹیک ہولڈرز کی رائے سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ خیرپور میں وبا کی روک تھام کے لیے بھی سندھ حکومت اقدامات کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…