اسلام آباد (این این آئی)مشرق وسطی میں کشیدگی کے پاکستان پر اثرات مزید گہرے ہوناشروع ہوگئے ،
رمضان کے بعددوسرے ہفتے بھی ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار مزید تیز ہوگئی ۔پچھلے چند ہفتوں سے مہنگائی میں اضافے کا رجحان ہے، حالیہ ہفتے بھی مہنگائی میں1.01فیصداضافہ ہو اہے جبکہ اس سے پچھلے ہفتے 0.97فیصداضافہ ہواتھا اور اس سے پچھلے ہفتے بھی مہنگائی میں 0.21فیصداضافہ ہوا تھا۔حالیہ ہفتے سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح بھی 8.24فیصد سے بڑھ کر9.12فیصد ہوگئی ہے۔ اسی طرح حالیہ ہفتے15اشیائے ضروریہ مہنگی، 9اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ 27اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے مہنگی ہونے والی اشیا میں مٹن، ٹماٹر، بیف، انڈے،دودھ اور زندہ مرغی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں13.28فیصد،انڈوں کی قیمتوں میں2.23 فیصد، چکن کی قیمتوں میں2.13فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں1.74فیصد،مٹن کی قیمتوں میں1.54فیصد، تازہ کھلے دودھ کی قیمتوں میں0.63فیصد،دہی کی قیمتوں میں0.60فیصد، جارجیٹ کی قیمتوں میں0.42فیصد،بیف کی قیمتوں میں0.39فیصد، اور دال مسور کی قیمتوں میں0.28فیصد اضافہ ہوا ہے۔آلو کی قیمتوں میں1.22فیصد،ٹماٹر کی قیمتوں میں6.03فیصد، پیازکی قیمتوں میں1.21فیصد، لہسن کی قیمتوں میں3.38فیصد، چینی کی قیمتوں میں0.15فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0.33فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں 0.92فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.70فیصد اضافے کے ساتھ 7.46فیصد، 17ہزار 733روپے سے 22ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.75فیصد اضافے کے ساتھ9.28فیصد، 22ہزار 889روپے سے 29ہزار 517روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.82فیصد اضافے کے ساتھ8.24فیصد، 29ہزار 518روپے سے 44ہزار 175روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.94فیصد اضافے کے ساتھ7.92فیصد رہی جبکہ44ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.15فیصد اضافے کیساتھ 8.70فیصدرہی ہے۔



















































