منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایس ایم ایس کی مد میں بینک صارفین سے 18ارب 70کروڑ روپے فیس وصولی کا انکشاف

datetime 3  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے لوٹ مار بے نقاب ہوگئی۔

کمیٹی نے صارفین سے ایس ایم ایس فیس کی مد میں وصول کئی گئی رقم کا ریکارڈ طلب کر لیا۔بینکوں کے نمائندوں نے مو قف اختیار کیا 2021ء میں ایک ایس ایم ایس کے چارجز صرف 42 پیسے تھے جو 2025میں تین روپے چالیس پیسے فی میسیج کر دیئے گئے، ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ایس ایم ایس چارجز کم کئے بغیر بینک کچھ نہیں کر سکتے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک عنایت حسین نے بتایا بینکوں نے ایس ایم ایس کی مد میں صارفین سے 18 ارب 70کروڑ روپے سالانہ فیس وصول کی جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو 25ارب 60کروڑ روپے ادائیگی کی گئی ۔ یوں بینکوں نے کمپنیوں کو 7ارب روپے اضافی ادا کئے۔سینیٹر عبدالقادر نے کہا بینک 400ارب روپے سالانہ منافع کما رہے ہیں اگر 7ارب روپے دے بھی دیں تو زیادہ بڑی بات نہیں ۔ یہ دو پیسے کا ایس ایم ایس تین سو پیسے میں کیوں بیچ رہے ہیں ۔ ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے نے کہا ہمارے اوپر چور اچکوں کا لیبل لگا ہوا ہے ۔

لیکن ہمارا بزنس شفاف ہے ، کئی بار آڈٹ ہو چکا۔سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا ٹیلی کام کمپنیوں کی فی ایس ایم ایس کاسٹ ایک سے دو پیسے ہے ۔ کمرشل بینک بھی اس میں پیسہ بنا رہے ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نیکہا صارفین سے ایس ایم ایس چارجز کی وصولی کا ایک سال کا ڈیٹا فراہم کیا جائے ۔ ڈیٹا ملنے کے بعد صارفین کو درپیش اس مسئلے کا حل نکالیں گے ۔ جب سارا ڈیٹا آ جائے گا تو فی ایس ایم ایس لاگت کا بھی تعین ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…