منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ہر پاکستانی شہری کے سوا تین لاکھ روپے کا مقروض ہونے کا انکشاف

datetime 2  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں ملکی قرضوں کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا،

جہاں حکام نے بتایا کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے کی حد سے بڑھ چکا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ہر شہری پر اوسطاً ساڑھے تین لاکھ روپے کے قریب قرض کا بوجھ آ چکا ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کے نمائندوں نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اس مجموعی قرض میں اندرونی اور بیرونی دونوں اقسام کے قرض شامل ہیں۔ ان کے مطابق مقامی قرضوں کا حجم 55 ہزار ارب روپے سے زیادہ جبکہ غیر ملکی قرضے 26 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ اس بڑھتے ہوئے قرض کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل قرض لینا پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ روپے کی قدر میں کمی بھی قرضوں کے حجم میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ معاشی پالیسیوں کی ذمہ داری پارلیمنٹ پر ڈالی جا رہی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ادارہ پارلیمنٹ سے قوانین منظور کروا کر اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو طلب کیا جائے گا تاکہ وضاحت لی جا سکے۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کے قرضے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جہاں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے 300 ارب روپے قرض لیا لیکن اسے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا، جبکہ اس پر سود کی ادائیگی بدستور جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…