بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

ہیکل سلیمانی

datetime 26  مارچ‬‮  2026
اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘ اللہ نے انہیں پیغمبری‘ کتاب اور بادشاہت تینوں سے نوازہ‘ حضرت دائود ؑ کی سلطنت نیل سے دریائے فرات تک تھی‘ آپ ؑ کے صاحب زادے حضرت سلیمان ؑ کو بھی نبوت اور بادشاہت ملی تاہم وہ کتاب سے محروم رہے‘ حضرت سلیمان ؑ نے ریاست کو مزید وسعت اور مضبوطی دی‘ آپؑ کی ریاست بلوچستان کے کوہ سلیمان تک وسیع تھی‘ حضرت سلیمان ؑ اپنے تخت رواں پر کوہ سلیمان پر تشریف لائے تھے‘ اس مناسبت سے یہ پہاڑ کوہ سلیمان کہلاتے ہیں‘ یہودیوں کا فرسٹ ٹیمپل (ہیکل سلیمانی) حضرت سلیمان ؑ نے تعمیر کرایاتھا‘ حضرت سلیمان ؑ کا وصال 930 قبل مسیح میں ہواجس کے فوراً بعد لڑائی شروع ہوئی اور ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ بنی اسرائیل کے وہ دس قبیلے دوبارہ اکھٹے ہو گئے جن سے یہودیوں نے سلطنت چھینی تھی‘ انہوں نے ریاست کے شمالی حصوں میں اسرائیلی سلطنت (کنگڈم آف اسرائیل) بنا لی‘ اس کا دارالحکومت شروع میں شچم (Shechem) تھا‘ آج کل اس شہر کو نابلس کہا جاتا ہے اور تل ابیب کے قریب واقع ہے‘ دارالحکومت پھر نابلس سے دس بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر تیراہ (پاکستان کی تیراہ ویلی کا نام اسی مناسبت سے رکھا گیا) میں شفٹ ہوا اور آخر میں سماریہ(Samaria) ہو گیا جب کہ دوسری ریاست کا نام یہودا (کنگڈم آف جودا) تھا‘ یہ ریاست یہودیوں اور بنیامین قبیلوں کی تھی‘ اس کا دارالحکومت یروشلم تھا‘ یہ دونوں ریاستیں تین چار سو سال ایک دوسرے سے لڑتی رہیں یہاں تک کہ 586 قبل مسیح میں بخت نصر آیا اور اس نے یہودا ریاست اور یروشلم تباہ کر دیا جب کہ اسرائیل کو اسیرین (Assyrian) پہلے ہی تباہ کر چکے تھے‘ بخت نصر یہودیوں کو بابل لے گیا اور انہیں دارالحکومت کے مضافات میں تل ابیب نامی بستی میں آباد کر دیا‘ یہ 50 سال وہاں رہے اور بعدازاں سائرس اول (ذوالقرنین) کے ساتھ ساز باز کی‘ سائرس نے بابل پر حملہ کیا اور بخت نصر کی ریاست تباہ کر دی جس کے بعد یہودی آزاد ہو گئے‘ ان میں سے اسی فیصد یہودی ایران اور بعدازاں سینٹرل ایشیا‘ روس اور مشرقی یورپ میں سیٹل ہو گئے جب کہ 20 فیصد یروشلم واپس آ گئے اور یہودیا(Judea) کے نام سے اپنی ریاست قائم کر لی‘ سائرس نے ان لوگوں کو سونے کے20 ہزار سکے دیے تھے‘ ان لوگوں نے اس رقم سے دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کر لیا‘ یہ
یہودی روایات میں سیکنڈ ٹیمپل کہلاتا ہے‘ یہ ٹیمپل تقریباً چھ سو سال قائم رہا یہاں تک کہ رومن بادشاہ تیتوس (Titus) نے 70 سال بعد از مسیح میں یروشلم پر حملہ کیااور یہودیا اور سیکنڈ ٹیمپل دونوں تباہ کر دیے‘ ٹیمپل کی صرف مغربی دیوار بچی جسے عثمانی سلطان سلیمان علی شان نے سولہویں صدی میں یہودیوں کے حوالے کر دیا اور یہ بعدازاں دیوار گریہ یا ویسٹ وال کہلانے لگی‘ تیتوس کے حملے کے بعد یہودی سلطنت عملاً ختم ہو گئی اور یہودی بیت المقدس سے ہمیشہ کے لیے نکال دیے گئے‘ اس کے بعد ان کی واپسی 1903ء میں عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید دوم کے دور میں شروع ہوئی۔ تیتوس اور سلطان عبدالحمید کے درمیان اٹھارہ سو سال کا وقفہ ہے‘ اس وقفے میں چند بڑے واقعات پیش آئے‘مثلاً یروشلم عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا اور یہ کرسچین سٹیٹ بن گیا‘ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں مسلمانوں کے پاس آ گیا‘ حضرت امیر معاویہؓ نے اس علاقے کو فلسطین کا نام دیا‘ واقعہ کربلا کے بعد اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے سیکنڈل ٹیمپل کی جگہ ڈوم آف دی راک یا قبۃ الصخرۃ بنا دیا اورپورے کمپائونڈ کو مسجد اقصیٰ اور قبلہ اول قرار دے دیا‘ 1099ء میں عیسائیوں نے فاطمیوں کو شکست دے کر یروشلم پر دوبارہ قبضہ کرلیا‘ مصر اور شام کے کرد حکمران سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں میں کام یابی کے بعد 1187ء میں88 سال بعد دوبارہ فلسطین کا قبضہ لے لیا‘1244ء میں ایوبی حکومت نے یروشلم‘ بیت اللحم اور نصرا عیسائیوں کے حوالے کر دیا تاہم انتظامی کنٹرول مسلمانوں کے پاس رہا‘ فلسطین اس کے بعد 1917ء یعنی خلافت عثمانیہ کے خاتمے تک مسلمانوں کے پاس رہا‘ خلافت عثمانیہ کے بعد یہ برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا اورانگریز نے دنیا بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کر کے یہاں آباد کرنا شروع کر دیا‘ یہ لوگ منہ مانگی قیمت دے کر فلسطینی مسلمانوں سے زمینیں خریدتے رہے اور اپنے پائوں پھیلاتے رہے‘ 1940ء میں ڈیوڈ بن گوریان آیا‘ اس نے اسرائیل ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) بنائی‘ برطانیہ نے اسے ہتھیار اور ٹریننگ دی اور ڈیوڈ بن گوریان نے 1948ء میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیاجس کے بعد عرب ملکوں نے اسرائیل پر حملہ کر دیا‘ یہ جنگ فرسٹ اسرائیل وار یا 1948ء کی جنگ کہلاتی ہے‘ اسرائیل کو برطانیہ اور امریکا کی پشت پناہی حاصل تھی لہٰذا عرب ہار گئے اور اسرائیل جیت گیا‘ اس جنگ کے نتیجے میں سات لاکھ 26 ہزار فلسطینی ہجرت پر مجبور ہو ئے اور اسرائیل پانچ پڑوسی مسلمان ملکوں کے علاقوں پر قابض ہو گیا‘ اس کے بعد جنگیں ہوتی رہیں اور ہر جنگ کے بعد فلسطینی ہجرت پر مجبور ہوتے رہے اور اسرائیل کے رقبے اور قبضے میں اضافہ ہوتا رہا‘یہ اس بار بھی لبنان کے جنوبی حصوں پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے‘ اب سوال یہ ہے اسرائیل یا یہودی چاہتے کیا ہیں؟ یہ سوال دل چسپ ہے اور ہم جب تک اس کا جواب تلاش نہیں کریں گے ہم اس وقت تک یہ ایشو سمجھ نہیں سکیں گے۔ اسرائیل کی دو خواہشیں ہیں‘ یہ لوگ دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک حضرت دائود ؑ کی سلطنت دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں‘ یہ صرف خواہش نہیں یہ ان کا عقیدہ بھی ہے‘ ان کی کتابوں میں لکھا ہے دنیا کے خاتمے سے پہلے حضرت دائود ؑ کی سلطنت دوبارہ قائم ہو گی جس کے بعد ان کا مسایا (مسیحا) آئے گا اور وہ پوری دنیا پر حکمرانی کرے گا‘ ہم مسلمان یہودیوں کے اس مسایا (مسیحا) کو دجال کہتے ہیں‘ حضرت دائود ؑ کا تخت لندن کے چرچ ویسٹ منسٹر ایبے میں پڑا ہے‘ برطانیہ نے یہودیوں کو لالچ دے رکھا ہے جس دن تم حضرت دائود ؑ کی سلطنت (گریٹر اسرائیل) بنا لو گے اس دن ہم تمہیں حضرت دائود ؑ کا تخت واپس کر دیں گے اور تم اس پر اپنے مسایا (دجال) کو بٹھا دینا چناں چہ یہ لوگ گریٹر اسرائیل بنانا چاہتے ہیں جس میں مصر‘ لبنان‘ شام‘ عراق‘ سعودی عرب‘ تمام گلف سٹیٹس اور ترکی شامل ہو گا‘ دوسرا یہ ٹیمپل مائونٹین سے ڈوم آف دی راک گرا کر اس کی جگہ تیسری مرتبہ ہیکل سلیمانی بنانا چاہتے ہیں‘ یہ اسے تھرڈ ٹیمپل کہتے ہیں ‘ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے پوری ٹیمپل مائونٹین پر ڈوم آف دی راک بنا کر اسے مسجد اقصیٰ بنا دیا تھا‘ مسلمانوں کا دعویٰ ہے ہم ڈیڑھ ارب مسلمان جان دے دیں گے لیکن مسجد اقصیٰ کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گے یوں یہ اختلاف مذہبی جنگ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے یہاں پر مزید دو سوال پیدا ہوتے ہیں‘ ہیکل سلیمانی (تھرڈ ٹیمپل) یہودیوں کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟ دوسرا مسلمان اس مقام کے لیے جان دینے کے لیے کیوں تیار ہیں؟ یہ بھی ایک دل چسپ قصہ ہے۔ یہودی روایات کے مطابق ہیکل سلمانی (فرسٹ ٹیمپل) کے نیچے غار ہیں‘ حضرت سلیمانؑ کے قبضے میں جنات تھے‘ جنات میں سے کچھ نے یہودیوں کو جادو سکھا دیا‘ وہ لوگ جادو کے ذریعے مال و دولت اکٹھی کر لیتے تھے‘ جنات کو قابو کرنے کے وظائف تھے‘ حضرت سلیمانؑ ان وظائف کے ذریعے جنات کو بلاتے اور ان سے کام لیتے تھے‘ یروشلم کے جادوگروں نے جادو کے ذریعے شر انگیزیاں شروع کر دیں‘ یہ جب ناقابل برداشت ہو گئیں تو حضرت سلیمان ؑ نے تمام جادوگروں کو اکٹھا کیا‘ ان کے جادو کے وظائف جمع کیے‘ انہیں صندوقوں میں بھرا اور ان صندوقوں کو ہیکل سلیمانی کے نیچے غاروں میں چھپا دیا‘ جادوگروں کو اس کے بعد قتل کر دیا گیا‘ حضرت سلیمان ؑ نے جنات بلانے کے وظائف بھی صندوقوں میں رکھے اور انہیں بھی غار میں رکھوا دیا اور آخر میں اپنا سارا خزانہ اور بنی اسرائیل کا مقدس ترین صندوق تابوت سکینہ (Ark of Covenant) بھی غاروں میں چھپا دیا‘ یہ غار ہیکل سلیمانی کے نیچے ہیں‘ بخت نصر خزانوں کے انہی صندوقوں کے لیے یروشلم آیا تھا‘ وہ ہیکل سلیمانی گرا کر خزانے تلاش کرتا رہا لیکن جب اسے مایوسی ہوئی تو اس نے یہودیوں کو غلام بنا کر اپنا نقصان پورا کر لیا‘ یہودیوں نے سائرس اول کے زمانے میں ان خزانوں کی حفاظت کے لیے سیکنڈ ٹیمپل بنا دیا‘ رومن بادشاہ تیتوس بھی انہی خزانوں کے لیے یروشلم آیا اور سیکنڈ ٹیمپل گرا کر خزانے کے غار تلاش کرتا رہا‘ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے بعدازاں خزانوں پر ڈوم بنا دیا‘ عثمانی دور میں یہاں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا‘ اس زمانے میں بیت المقدس میں چند یہودی علماء مستقل رہتے تھے‘ وہ ٹیمپلر نائٹس (Templer Knights) کہلاتے تھے‘ وہ ڈوم کے نیچے خاموشی سے غار کھودتے رہے‘ حضرت سلیمان ؑ کے دو صندوق ان کے ہاتھ لگ گئے‘ اس کے بعد دو روایات ہیں‘ ایک روایت کے مطابق صندوق میں دولت بنانے کے جادو تھے‘ یہودی علماء نے وہ جادو کیا اور انہیں واقعی دولت مل گئی‘ دوسری روایت صندوقوں میں سونے کے سکے تھے‘ بہرحال قصہ مختصر یہودیوں کے پاس دولت آ گئی‘ اس زمانے میں زمین سے نکلنے والا خزانہ ریاست کی امانت ہوتا تھا اور بحق سرکار ضبط کر لیا جاتا تھا‘ یہودی اس خزانے کو بچانا چاہتے تھے اور یروشلم سے باہر بھی لے جانا چاہتے تھے اور یہ بظاہر ممکن نہیں تھا کیوں کہ یروشلم سے باہر جانے والے تمام زائرین کی تلاشی لی جاتی تھی‘ ٹیپملر نائیٹس نے دولت کو یروشلم سے لے جانے کے لیے دل چسپ طریقہ ایجاد کیا‘ اس زمانے میں زائرین زیارت اور عبادت کے لیے قافلوں کی شکل میں یروشلم آتے تھے‘ انہیں راستے میں ڈاکو لوٹ لیتے تھے‘ ٹیپملر نائیٹس نے دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے ایجنٹ بنائے‘ وہ زائرین سے نقدی لے کر انہیں خاص قسم کا کاغذ دے دیتے تھے‘ زائرین بیت المقدس پہنچ کر وہ کاغذ نائیٹس کے حوالے کر دیتے تھے اور وہ انہیں خزانے سے رقم نکال کر دے دیتے تھے‘ یہ کاغذ بعدازاں چیک یا ٹریولر چیک بن گیا اور اسے بینکوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا یوں خزانے کی رقم یروشلم سے باہر شفٹ ہو گئی‘ ٹیمپلر نائیٹس بعدازاں وہ رقم سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا لے گئے‘ زمینیں خریدیں اور وہاں بڑی بڑی کمرشل پراپرٹیز اور محلات بنالیے‘ یہ لوگ سکاٹ لینڈ میں میسنز کہلاتے تھے‘ ان کی ایک میسن یونین ہوتی تھی جو بعدازاں ’’فری میسنز‘‘ (Free Masons) بن گئی‘ ٹیمپلر نائیٹس نے خزانے کے صرف دو صندوق نکالے تھے جس کا مطلب تھا مسجد اقصیٰ کے نیچے واقعی حضرت سلیمان ؑ کا خزانہ موجود ہے چناں چہ یہ لوگ اب وہاں سے پورا خزانہ نکالنا چاہتے ہیں‘ آپ نے اکثر خبریں پڑھی ہوں گی یہودی مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھود رہے ہیں‘ یہ لوگ دراصل بنیادیں نہیں کھود رہے یہ مسجد کے نیچے غاروں میں خزانہ‘ جادو کے صندوق اور تابوت سکینہ تلاش کر رہے ہیں چناں چہ یہ لوگ ڈوم آف دی راک (مسجد اقصیٰ) گرا کر خزانہ نکالنا چاہتے ہیں اور تھرڈ ٹیمپل (ہیکل سلیمانی) بنا کر اپنے مسایا (دجال) کے لیے فضا بھی ہموار کرنا چاہتے ہیں جب کہ ہم مسلمان سمجھتے ہیں یہ جگہ ہمارے لیے زیادہ مقدس ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ہمارا قبلہ اول تھا‘ دوسرا یہاں سے رسول اللہ ﷺ معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے اور تیسرا یہاں ہماری مسجد (مسجد اقصیٰ) موجود ہے چناں چہ ہم اسے گرانے دیں گے اور نہ کسی کو قبضہ کرنے دیں گے اس کے جواب میں یہودی اور عیسائی دلائل دیتے ہیں یہ جگہ صرف 17 ماہ آپ کا قبلہ اول رہی جب کہ یہ یہودیوں کا تین ہزار سات سو سال اور عیسائیوں کے لیے دو ہزار سال سے قبلہ ہے‘ دوسرا آپ کے رسولﷺ یہاں سے صرف معراج پر تشریف لے گئے تھے جب کہ یہ مقام حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کا تخت اور مقام وصال ہے‘ حضرت عیسیٰ ؑ کو سزا بھی اسی جگہ ہوئی تھی اور آپؑ کا خون بھی یہیں گرا تھا اور حضرت مریم ؑ کاوصال بھی اسی جگہ ہوا تھا لہٰذا پھر یہ کس کا زیادہ حق ہوئی‘ یہ کس کی زیادہ امانت ہوئی؟۔ میرا ذاتی خیال ہے یہودیوں‘ عیسائیوں اور مسلمان تینوں کا کلیم غلط ہے‘ تینوں مذہب ایک خدا کو مانتے ہیں‘ ان کی روایات اور عبادت کے طریقے بھی کم و بیش ایک ہیں لہٰذا یہ جگہ تینوں مذاہب کے لیے یکساں مقدس ہے اور یہ ورلڈ ریلیجس ہیرٹیج کی حیثیت سے سب کے لیے اوپن ہونی چاہیے لیکن یہ ہو نہیں سکے گا‘ یہ ہمیشہ مذاہب کے درمیان جنگ کا باعث بنی رہے گی‘ کیوں؟ کیوں ورلڈ پاورز اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں‘ برطانیہ اور امریکا نے گریٹر اسرائیل اور تھرڈ ٹیمپل کے نام پر یہودیوں کو یہاں جمع کیا اور پھر مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے نام پر جذباتی کر دیاجس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلاکر عربوں کے تیل کا پیسہ ہڑپ کرنا تھا‘ آپ خود سوچیں اگر اسرائیل نہ ہوتا تو کیا عربوں میں خوف ہوتا؟ اور اگر خوف نہ ہوتا تو کیا گلف کی ریاستوں میں امریکی اڈے ہوتے اور اگر گلف میں امریکی اڈے نہ ہوتے تو کیا عرب امریکا اور یورپی ملکوں کو کھربوں ڈالرز دیتے؟ میرا خیال ہے اگر عربوں کے پاس تیل نہ ہوتا توبھی اسرائیل کاٹنٹنا نہ ہوتا‘ اسرائیل اور گریٹر اسرائیل کی موومنٹ نے تیل کے کنوئوں سے جنم لیا‘ جب تک تیل نہیں تھا اس وقت تک اسرائیل اور قبلہ اول کی لڑائی بھی نہیں تھی بس تیل نکلتا گیا اور اسرائیل کا جنم اور قبلہ اول کی آوازیں پیدا ہوتی چلی گئیں اور یہ کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تیل کے کنویں نہیں سوکھتے‘ مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے اس سارے کھیل میں صرف مسلمان مظلوم نہیں ہیں اس میں یہودیوں کے ساتھ بھی زیادتی ہو رہی ہے‘ یہ بھی ہماری طرح بڑی طاقتوں کی شطرنج کے مہرے بنے ہوئے ہیں‘ ہم بھی مر رہے ہیں اور یہ بھی جب کہ امریکا تیل اور ہتھیاروں کے کاروبار سے کھربوں ڈالر کما رہا ہے لہٰذا یہودی اور مسلمان ایک ہی ڈائریکٹر کی فلم کے دو کردار ہیں‘ ایک ہیرو ہے اور دوسرا ولن اور یہ دونوں نہیں جانتے ان کی لڑائی سے ڈائریکٹر کو آسکر ملے گااور پروڈیوسرکھربوں ڈالر سمیٹے گا‘ بات بس اتنی سی ہے اور اتنی سی بات لاکھوں جانیں نگل گئی۔

موضوعات:



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…