منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپوٹرز کی شامت آگئی

datetime 19  مارچ‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی) عید کے پرمسرت موقع پر اپنے گھروں کو واپس جانے والے مسافروں سے زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپوٹر مافیا کو لگام ڈالنے کیلئے وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان کے راول پنڈی، فیصل آباد اور لاہور کے بسوں اڈوں کے مسلسل دورے جاری ہیں۔

خراب موسم کے باوجود وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کئی گھنٹے محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے افسران کے ہمراہ فیلڈ میں متحرک رہے جبکہ لاہور کے مختلف مقامات اور بس اسٹینڈز پر افسران کے ہمراہ سخت چیکنگ کی۔ انہوں نے مسافروں سے کرایوں بارے استفسار کیا اور شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے زائد کرایہ وصول کرنے والوں کو موقع پر ہی سخت جرمانے عائد کیے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں زائد کرایہ وصول کرنے پر 750 سے زائد گاڑیاں بند جبکہ91 لاکھ روپے سے زائد رقم کے جرمانے کیے گئے۔اسی طرح زائد کرایہ کی مد میں وصول کی گئی تقریبا 10 لاکھ روپے کی رقم 8 ہزار سے زائد مسافروں کو واپس دلوائی گئی۔اس موقع پر مسافروں نے زائد کرایہ کی رقم واپسی پر خوشی کا اظہار کیا اور بروقت حکومتی اقدامات کی تعریف کی۔صوبائی وزیر نے بس اسٹینڈز پر مسافروں کو فراہم کی جا رہی سہولیات کا بھی جائزہ لیا انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو مسلسل فیلڈ میں رہ کر سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی اور زائد کرایہ وصول کرنے اور فرنٹ سکرین پر کرایہ نامہ آویزاں نہ کرنے والوں کیخلاف سخت ترین کارروائیاں جاری رکھنے کا حکم بھی دیا۔ اپنے بیان میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران مسلسل فیلڈ میں متحرک ہیں اور عید پر کسی صورت معمول سے زائد کرایہ وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی طور زائد کرایہ نہ دیں اور زیادتی کرنے والوں کی نشاندہی کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اوور لوڈنگ اور بسوں کی چھتوں پر سفر کرانے پر بھی پابندی ہوگی جبکہ کرایوں کی سخت ترین مانیٹرنگ عیدکے دنوں اور اس کے بعد بھی جاری رہیگی اس لیے زائد کرایہ وصول کرنے والا ٹرانسپورٹر مافیا سخت کارروائی کیلیے تیار رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…