منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

شناختی کارڈ بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان کر دی گئی

datetime 18  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستانی شہریوں کے لیے قومی شناختی کارڈ کے حصول کو آسان بنانے کی غرض سے ایک اہم سہولت متعارف کرا دی گئی ہے،

جس سے ہزاروں افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ملک میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کا ہر شہری شناختی کارڈ بنوانے کا اہل ہوتا ہے، تاہم اس عمل کے لیے مختلف ضروری دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک دستاویز کی کمی کی صورت میں درخواست مکمل نہیں ہو پاتی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اہم دستاویزات میں کمپیوٹرائزڈ پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی شامل ہے، جو اکثر افراد کے پاس دستیاب نہیں ہوتا، جس کے باعث وہ شناختی کارڈ بنوانے سے محروم رہتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 98.3 فیصد بالغ افراد کی رجسٹریشن ہو چکی ہے، جبکہ اب بھی 1.7 فیصد افراد اس نظام سے باہر ہیں۔ ان میں بڑی تعداد خواتین اور دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کی ہے، جہاں پیدائش کے اندراج کی سہولیات محدود ہیں۔اسی مسئلے کے حل کے لیے نادرا نے پہلی بار ایک متبادل طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔

اس کے تحت ایسے افراد جو پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں رکھتے، وہ 31 دسمبر 2026 تک خاندان کے رجسٹرڈ افراد کی بائیومیٹرک تصدیق اور دیگر متبادل تصدیقی عمل کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کر سکیں گے۔مزید معلومات اس حوالے سے متعلقہ پوڈکاسٹ میں فراہم کی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…