ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

چین کا دورہ کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے امریکا میں موجود رہنا پڑے گا، ٹرمپ

datetime 17  مارچ‬‮  2026 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ دینے پر ٹرمپ دنیا سے ناراض ہوگئے، ٹرمپ نے کسی کو طعنہ دیا، کسی کو دھمکی دی۔

اوول آفس میں گفتگو کرنے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے نیٹو کے دفاع پر اربوں ڈالرخرچ کیے، ہمارے دفاع کے لیے وہ موجود نہیں، بولے برطانوی وزیراعظم نے مجھے مایوس کیا۔ جنگ جیتنے کے بعد اسٹارمر نے جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا۔ برطانوی وزیراعظم کو بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہازوں کی ضرورت نہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ چین کا دورہ کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے امریکا میں موجود رہنا پڑے گا، ہم نے درخواست کی ہے کہ چین کا دورہ ایک ماہ کے لیے ملتوی کریں۔اس سے پہلے پریس کانفرنس میں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم 40 سال سے آپ کی حفاظت کر رہے ہیں، اور آپ اس جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے؟ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک آبنائے ہرمز میں مدد کے لیے پرجوش نہیں، ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کی ہم نے کئی کئی برسوں تک مدد کی ہے، ہم نے انھیں خوف ناک بیرونی خطرات سے بچایا ہے اور وہ اتنے پرجوش نہیں۔انہوں نے دوبارہ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ملکوں کے نام لے کر مدد مانگ لی، ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکا نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی ہیں، ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ جن ملکوں کا تیل آبنائے ہرمز سے جاتا ہے وہ اب آگے آئیں۔ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر بھی زندہ نہیں۔ ایران میں مذاکرات کے قابل کوئی قیادت موجود ہی نہیں۔کیا جنگ اس ہفتے ختم ہوجائیگی؟ اس سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں بتا سکتا، جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…