منگل‬‮ ، 03 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

سی آئی اے نے ایرانی رہنماؤں کے اجتماع کی نشاندہی میں مدد کی جس کے بعد اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، امریکی میڈیا

datetime 1  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ

ایران پر ہونے والے حالیہ حملے سے قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے ایک اہم اجلاس کی نشاندہی کی، جس کے بعد اسرائیل نے کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق حملے سے پہلے سی آئی اے نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کر رکھی تھیں۔ ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارہ کئی ماہ سے خامنہ ای کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا اور ان کے معمولات سے متعلق مستند معلومات جمع کی جا رہی تھیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کو اطلاع ملی تھی کہ ہفتے کی صبح تہران میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں اعلیٰ ایرانی عہدیداران شریک ہوں گے اور سپریم لیڈر بھی وہاں موجود ہوں گے۔ اس انٹیلی جنس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے اپنے حملے کے وقت میں رد و بدل کیا تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور اعلیٰ قیادت کو ایک ساتھ نشانہ بنایا جا سکے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ آپریشن دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون اور انٹیلی جنس کے تبادلے کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایرانی قیادت کے بارے میں گہری معلومات اکٹھی کر لی تھیں۔

اخبار کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے امریکی معلومات اور اپنی منصوبہ بندی کو یکجا کر کے کارروائی کی، جس کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی۔ ابتدا میں حملہ رات کے وقت کرنا طے تھا، تاہم تازہ انٹیلی جنس ملنے پر وقت تبدیل کر دیا گیا۔ اجلاس اس مقام پر ہونا تھا جہاں ایرانی صدر، سپریم لیڈر اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفاتر واقع ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس اجلاس میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور، وزیر دفاع عزیز ناصرزادہ، ملٹری کونسل کے سربراہ علی شمخانی، ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید مجید موسوی، نائب وزیر انٹیلی جنس محمد شیرازی اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع تھی۔

آپریشن کا آغاز اسرائیل میں صبح تقریباً 6 بجے ہوا جب لڑاکا طیاروں نے اڑان بھری۔ دو گھنٹے سے زائد پرواز کے بعد صبح تقریباً 9 بج کر 40 منٹ پر تہران میں اہداف پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سینئر قومی سلامتی حکام ایک ہی عمارت میں موجود تھے جبکہ سپریم لیڈر قریب ہی ایک اور مقام پر تھے۔

نیویارک ٹائمز کو ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ حملہ تہران کے مختلف مقامات پر بیک وقت کیا گیا، اور اسے “فنی اعتبار سے غیر معمولی کامیابی” قرار دیا گیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے اخبار کی جانب سے رابطہ کرنے پر ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سٹوڈنٹ لسٹ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…