ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سی آئی اے نے ایرانی رہنماؤں کے اجتماع کی نشاندہی میں مدد کی جس کے بعد اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، امریکی میڈیا

datetime 1  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ

ایران پر ہونے والے حالیہ حملے سے قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے ایک اہم اجلاس کی نشاندہی کی، جس کے بعد اسرائیل نے کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق حملے سے پہلے سی آئی اے نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کر رکھی تھیں۔ ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارہ کئی ماہ سے خامنہ ای کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا اور ان کے معمولات سے متعلق مستند معلومات جمع کی جا رہی تھیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کو اطلاع ملی تھی کہ ہفتے کی صبح تہران میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں اعلیٰ ایرانی عہدیداران شریک ہوں گے اور سپریم لیڈر بھی وہاں موجود ہوں گے۔ اس انٹیلی جنس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے اپنے حملے کے وقت میں رد و بدل کیا تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور اعلیٰ قیادت کو ایک ساتھ نشانہ بنایا جا سکے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ آپریشن دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون اور انٹیلی جنس کے تبادلے کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایرانی قیادت کے بارے میں گہری معلومات اکٹھی کر لی تھیں۔

اخبار کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے امریکی معلومات اور اپنی منصوبہ بندی کو یکجا کر کے کارروائی کی، جس کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی۔ ابتدا میں حملہ رات کے وقت کرنا طے تھا، تاہم تازہ انٹیلی جنس ملنے پر وقت تبدیل کر دیا گیا۔ اجلاس اس مقام پر ہونا تھا جہاں ایرانی صدر، سپریم لیڈر اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفاتر واقع ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس اجلاس میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور، وزیر دفاع عزیز ناصرزادہ، ملٹری کونسل کے سربراہ علی شمخانی، ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید مجید موسوی، نائب وزیر انٹیلی جنس محمد شیرازی اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع تھی۔

آپریشن کا آغاز اسرائیل میں صبح تقریباً 6 بجے ہوا جب لڑاکا طیاروں نے اڑان بھری۔ دو گھنٹے سے زائد پرواز کے بعد صبح تقریباً 9 بج کر 40 منٹ پر تہران میں اہداف پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سینئر قومی سلامتی حکام ایک ہی عمارت میں موجود تھے جبکہ سپریم لیڈر قریب ہی ایک اور مقام پر تھے۔

نیویارک ٹائمز کو ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ حملہ تہران کے مختلف مقامات پر بیک وقت کیا گیا، اور اسے “فنی اعتبار سے غیر معمولی کامیابی” قرار دیا گیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے اخبار کی جانب سے رابطہ کرنے پر ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…