ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر نے 4 سالہ بیٹی کا قتل کر کے لاش کو پول میں پھینک دیا

datetime 27  فروری‬‮  2026 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی ریاست فلوریڈا کی رہائشی ایک بھارتی نژاد ڈاکٹر نے اپنی 4 سالہ بچی کا قتل کرنے کے بعد پولیس کو کال کر کے قتل کو ایک حادثہ ثابت کرنے کی کو شش کی۔

میامی پولیس نے بتایا کہ اوکلاہاما سے اپنی بیٹی کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے فلوریڈا آنے والی 37 سالہ ماہرِ امراضِ اطفال نیہا گپتا نے اپنی بیٹی کا قتل کرنے کے بعد ہمیں کال کر کے قتل کو ایک حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ڈاکٹر نیہا گپتا نے رات کے وقت پولیس کو کال کر کے کہا کہ میری بیٹی پول میں گر گئی ہے، میں اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن مجھے سوئمنگ کرنی نہیں آتی۔ڈاکٹر نیہا گپتا نے پولیس کو مزید بتایا کہ اس وقت یہاں پر صرف میں اور میری بیٹی ہی ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے، میں نے بہت کوشش کی لیکن میں اسے پول سے باہر نہیں نکال سکی۔ڈاکٹر نیہا گپتا نے بتایا کہ میری بیٹی پول کی گہرائی میں چلی گئی ہے اور بالکل حرکت نہیں کر رہی ہے، اسے ریسکیو کرنے کے لیے ٹیم کب تک یہاں پہنچے گی؟جس پر ڈاکٹر نیہا گپتا کو بتایا گیا کہ ریسکیو کے لیے ٹیم کچھ دیر میں پہنچ جائے گی تب تک وہ خود اپنی بیٹی کو پول سے نکالنے کی کوشش کرتی رہیں۔

چند لمحوں بعد جب پولیس افسران پہنچے تو ڈاکٹر نیہا گپتا نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور افسران نے اس کی بیٹی کو پانی سے نکالا۔پولیس بچی کو پول سے نکالنے کے بعد اسپتال لے کر گئی جہاں ڈاکٹر نیہا گپتا نے پیرامیڈیکس کو بتایا کہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ میری بیٹی تالاب میں کتنی دیر رہی، اندازا شاید 20 منٹ رہی ہو گی۔جب بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو اس کے پھیپھڑوں یا پیٹ میں پانی نہیں ملا جس سے یہ طے پایا کہ وہ پول میں پھینکے جانے سے پہلے ہی مر چکی تھی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو پول میں پھینکنے سے پہلے اس کا گلا دبا کر قتل کیا گیا۔یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد پولیس نے ڈاکٹر نیہا گپتا کو بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت بچی آریہ کے والد نے ڈاکٹر نیہا گپتا کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے بیٹی کی مکمل تحویل کے حصول کے لے درخواست دائر کی ہوئی تھی۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ یہ واقعہ گزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا جس کی مکمل تفصیلات امریکی پولیس نے اب جاری کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…