اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) افغان میڈیا میں ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارت کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ ممکنہ طور پر
کابل میں ہونے والے مبینہ پاکستانی فضائی حملوں کے دوران نشانہ بنے۔ تاہم ان خبروں کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔Afghan Times کی رپورٹ کے مطابق بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملوں کے وقت ہیبت اللہ اخوندزادہ صدارتی کمپاؤنڈ میں موجود نہیں تھے، مگر اس کے باوجود ان سے رابطے کے ذرائع منقطع بتائے جا رہے ہیں اور ان کی موجودہ حالت کے بارے میں کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود صدارتی مقام کے قریب ایک رہائش گاہ میں موجود تھے جسے مبینہ طور پر فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
🚨 BREAKING NEWS 🇦🇫
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
The Supreme Leader of the Islamic Emirate of Afghanistan, Hibatullah Akhundzada, has reportedly been killed along with senior Taliban commanders in Pakistani airstrikes targeting headquarters in Kabul. pic.twitter.com/4exOiu86gA
— Afghan Times (@AfghanTimes7) February 26, 2026
بعض تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق وہ اس حملے میں مارے گئے، تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے توثیق نہیں ہو سکی۔ہیبت اللہ اخوندزادہ، جنہیں افغان طالبان کا اعلیٰ ترین رہنما سمجھا جاتا ہے، کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں اور ان کی موجودگی یا سلامتی کے حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔مزید برآں، افغان ٹائمز کا کہنا ہے کہ حالیہ بمباری کے بعد طالبان قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے چند ممالک سے رابطے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم ان پیش رفتوں کی بھی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔



















































