نواز شریف کی سیاست میں انٹری
لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘ سرخ و سپید نوجوان بیٹنگ کر رہا تھا‘ اچانک گیٹ سے نیلی بتی والی سرکاری گاڑی اندر داخل ہوئی‘
وہ کرکٹ گرائونڈ کے قریب پہنچ کر رکی‘ اس میں سے نوجوان اسسٹنٹ کمشنر اترا اور سیدھا ٹیم کے کپتان کے پاس گیا اور اس سے کچھ پوچھا ‘ کپتان نے بیٹنگ کرتے نوجوان کی طرف اشارہ کر دیا‘ اسسٹنٹ کمشنر نوجوان کی طرف آیا‘ اشارے سے بائولنگ کراتے کھلاڑی کو روکا‘ بیٹنگ کرتے نوجوان کے کان میں کچھ کہا‘ اسے ساتھ لیا‘ سرکاری گاڑی میں بٹھایا اور لے کرچلا گیا‘ میچ کھیلتے کھلاڑی حیرت سے یہ منظر دیکھتے رہ گئے‘ اسسٹنٹ کمشنر بیٹس مین کو ڈپٹی کمشنر کے پاس لے گیا‘ ڈپٹی کمشنر کا کولونیل سٹائل کا بڑا سا دفتر تھا‘ دروازے پر دربان اور درجنوں سائل کھڑے تھے‘ ڈی سی کے دبدبے نے کھلاڑی کی پریشانی میں اضافہ کر دیا اور اس کے ماتھے پر ہلکا سا پسینہ آ گیا‘ ڈی سی نے اے سی کو جانے کا اشارہ کیا اور نوجوان کھلاڑی سے پوچھا ’’کیا آپ گورنر صاحب کو جانتے ہیں؟‘‘ نوجوان نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا‘ ڈی سی نے پوچھا ’’آپ نے کوئی خلاف قانون حرکت تو نہیں کی؟‘‘ نوجوان نے پریشانی کے عالم میں جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘ میں صرف فیکٹری‘ گھر اور گرائونڈ جاتا ہوں‘‘ ڈی سی نے لمبی سی ’’ہوں‘‘ کی اور اسے بتایا ’’آپ کو گورنر صاحب نے طلب کیا ہے‘ آپ ابھی میرے ساتھ گورنر ہائوس جا رہے ہیں‘‘ نوجوان نے اپنی سپورٹس کٹ کی طرف دیکھا اور گھبرا کر کہا ’’سر اگر آپ اجازت دیں تو میں کپڑے بدل لوں‘ میرے کپڑے گاڑی میں پڑے ہیں‘ مجھے پانچ منٹ لگیں گے‘‘ ڈی سی نے انکار میں سر ہلا دیا‘ اس کا کہنا تھا ہمارے پاس وقت نہیں ہے‘ گورنر نے آپ کو فوری طور پر جیسے ہیں کی شکل میں بلایا ہے‘ نوجوان مزید پریشان ہوگیا‘ بہرحال قصہ مختصر ڈی سی نے نوجوان کھلاڑی کو بیٹ سمیت کٹ میں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور سیدھا گورنر ہائوس پہنچ گیا‘ گورنر صاحب اس وقت لان میں چہل قدمی کر رہے تھے‘ انہوں نے نوجوان کو دیکھ کر قہقہہ لگایا اور کہا ’’ڈی سی صاحب آپ اسے کٹ میں ہی اٹھا کر لے آئے‘‘ ڈپٹی کمشنر نے ادب سے عرض کیا ’’سر آپ نے فرمایا تھا جہاں ہے جیسا ہے فوراً لے آئو‘ یہ ہمیں کرکٹ کھیلتے ہوئے ملے اور ہم انہیں اسی
صورت میں لے آئے‘‘ گورنر صاحب نے قہقہہ لگایا اور دونوں کو واک میں شریک کر لیا۔
گورنر صاحب نے چہل قدمی کرتے ہوئے نوجوان سے پوچھا ’’آپ بیٹنگ کرتے ہیں یا بولنگ‘‘ نوجوان نے جواب دیا ’’میں بیٹس مین ہوں‘‘ اگلا سوال تھا‘ آپ کس لیول تک کھیلے ہیں‘ جواب تھا زمبابوے کے ساتھ انٹر نیشنل لیول تک‘ اگلا سوال تھا کتنا سکورکیا تھا؟ نوجوان نے ہلکی آواز میں جواب دیا ’’سر ایمپائر نے غلط آئوٹ دے دیا تھا‘‘ گورنر صاحب نے پوچھا لیکن آپ کا سکور کتنا تھا‘ نوجوان نے جواب دیا ’’سر ایمپائر بے ایمان نکلا‘‘ گورنر نے تیسری بار پوچھا ’’میں سکور پوچھ رہا ہوں‘‘ نوجوان خاموش رہا‘ ڈی سی نے فوراً جواب دیا ’’سر اس کا مطلب ہے یہ صفر پر آئوٹ ہو گئے تھے‘‘ گورنر نے قہقہہ لگایا اور پوچھا ’’آپ کرکٹ کھیلنے کے علاوہ کیا کرتے ہیں؟‘‘ نوجوان نے جواب دیا ’’میں فیکٹری کے اکائونٹس دیکھتا ہوں‘‘ گورنر نے مسکرا کر کہا ’’گویا آپ کو فنانس کی سمجھ بوجھ ہے‘‘ گورنر اس کے بعد ڈی سی کی طرف مڑے اور کہا‘ ڈی سی صاحب آپ اپنے پاس نوٹ کریں ہم انہیں فنانس کا پورٹ فولیو دے رہے ہیں‘ یہ آج سے پنجاب کے وزیر خزانہ ہیں‘ ڈی سی کا ہاتھ کانپ گیا‘ کیوں؟ کیوں کہ گھنٹہ بھر قبل گورنر صاحب نے فون پر ڈی سی سے پوچھا تھا آپ ماڈل ٹائون کے ایڈمنسٹریٹر ہیں‘ آپ جانتے ہوں گے ماڈل ٹائون کے شروع میں سات کشمیری بھائیوں کے اکٹھے گھر ہیں‘ ان میں سے ایک گھر میں میاں شریف رہتے ہیں‘ اس کے بڑے بیٹے کا نام نواز ہے‘
آپ اسے فوراً میرے پاس لے آئیں‘ ڈی سی نے پوچھا ’’سر کیا اسے گرفتار کر کے لانا ہے؟‘‘ گورنر نے جواب دیا تھا ’’نہیں‘ نہیں گرفتار نہیں کرنا بس جہاں ہے جیسا ہے لے آئیں‘‘ ڈی سی نے گورنر کا یہ آرڈر اے سی کو پاس کر دیا‘ وہ فوراً ماڈل ٹائون گیا اور میاں شریف صاحب کے گھر سے محمد نواز کے بارے میں پوچھا‘ پتا چلا وہ اس وقت لارنس گارڈن میں کرکٹ کھیل رہے ہیں‘ وہ سیدھا وہاں گیا اور بیٹنگ کرتے ہوئے نواز شریف کو گاڑی میں بٹھا کر ڈی سی آفس لے آیا اور ڈی سی انہیں بیٹ اور کٹ میں گورنر ہائوس لے آیا اور گورنر صاحب نے چہل قدمی کرتے ہوئے اسے پنجاب کا فنانس منسٹر بنا دیا اور اگر اس کے بعد بھی ڈی سی کا ہاتھ نہ کانپتا تو کیا ہوتا؟ ڈی سی پریشانی کے عالم میں کبھی گورنر کو دیکھتا تھا اور کبھی نوجوان کو۔ گورنر صاحب نے یہ حکم دیا اور واک کا اگلا پھیرا شروع کر دیا‘ وہ دونوں ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے‘ دوسرے پھیرے میں گورنر صاحب نے ڈی سی سے پوچھا‘ آپ لاہور کے ڈی سی ہیں‘ آپ کی گاڑی کا نمبر ایل آر ون ہونا چاہیے‘ آپ نے اب تک یہ نمبر کیوں نہیں لیا؟ ڈی سی نے آہستہ سے جواب دیا‘ سر ضرورت ہی نہیں پڑی‘ گورنر صاحب نے ہنس کر کہا‘ ضرورت ہونی چاہیے تھی‘ ہمارا بیٹس مین اگر آپ کے ساتھ وعدہ کر لے یہ چارج سنبھالتے ہی آپ کو ایل آر ون نمبر دے دے گا تو اسے پنجاب کے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کا پورٹ فولیو بھی دے دیں‘ نواز شریف نے فوراً جواب دیا‘ سر میرا پہلا آرڈر یہی ہو گا‘ گورنر صاحب نے ہنس کر کہا‘ ڈی سی صاحب یہ بھی لکھ لیں‘اس کے بعد واک کا تیسرا پھیرا شروع ہوگیا‘ گورنر صاحب نے تیسرے پھیرے پر ڈی سی سے کہا‘ ڈی سی صاحب یہ کرکٹر ہیں گویہ زمبابوے کے خلاف صفر پر آئوٹ ہوگئے تھے لیکن مجھے ان کی کٹ اچھی لگی‘ آپ انہیں پنجاب سپورٹس بورڈ کا چیئرمین بھی بنا دیں‘ ڈی سی نے چلتے چلتے یہ بھی لکھ دیا‘ اس کے ساتھ ہی گورنر صاحب کی واک ختم ہو گئی‘ ڈی سی نے یہ احکامات گورنر صاحب کے سٹاف کے حوالے کیے اور اس نوجوان کو لے کر واپس آگیا جسے وہ تھوڑی دیر پہلے تک مجرم سمجھ رہا تھا۔
جی ہاں یہ میاں نواز شریف کی سیاست کے پہلے دن کی کہانی ہے‘ یہ 1980ء تھا اور گورنر تھے لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی اور جو ڈپٹی کمشنر انہیں لارنس گارڈن سے کٹ میں ’’اٹھوا‘‘ کر گورنر ہائوس لے کرگیا تھا وہ تھے سعید مہدی لیکن یہ کہانی یہاں سے سٹارٹ نہیں ہوتی‘ اس کا اصل کردار کوئی اور تھا‘ اس کا نام بریگیڈیئر عبدالقیوم تھا اور یہ کہانی مجھے بریگیڈیئر عبدالقیوم اور جنرل جیلانی صاحب دونوں نے سنائی تھی‘ میری 1994ء میں امیر گلستان جنجوعہ سے ملاقات ہوئی‘ وہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر تھے‘ جنرل ضیاء الحق اور غلام اسحاق خان کے دوست تھے‘ ریٹائرمنٹ کے بعد 16 سال یو اے ای‘ سعودی عرب اور نیپال میں سفیر رہے تھے‘ ان کی آخری ذمہ داری فرنٹیئر (آج کے پی) کی گورنر شپ تھی‘ جنرل جیلانی اور بریگیڈیئر قیوم دونوں ان کے پرانے دوست تھے‘ بریگیڈیئر قیوم ایبٹ آباد اور لاہور میں رہتے تھے جب کہ جنرل جیلانی ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور میں مقیم ہو گئے تھے‘ یہ دونوں 1994ء میں اپنے کسی بیچ میٹ کی عیادت کے لیے راولپنڈی آئے ‘ میں ان دنوں امیر گلستان جنجوعہ کا انٹرویو کر رہا تھا‘
وہ فوج کی مشہور جنجوعہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے‘ مرحوم آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ بھی ان کے رشتے دار تھے‘ میری ان دونوں سے جنجوعہ صاحب کے گھر پر ملاقات ہوئی تھی‘ ان دنوں بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی‘ میاں نواز شریف اپوزیشن لیڈر تھے اور ملک کے سیاسی حالات 2022-23ء جیسے تھے‘ سڑکیں گرم‘ اسمبلیاں مچھلی منڈی اور ملک میں افراتفری‘ میں جنجوعہ صاحب کے گھر میں داخل ہوا تو تینوں ایک دوسرے کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے‘ میں اس زمانے میں نوجوان اور آج سے زیادہ بے وقوف تھا چناں چہ ہر قسم کا سوال کر لیتا تھا‘ میں نے جنرل جیلانی صاحب سے پوچھ لیا ’’کیا میاں نواز شریف کو سیاست میں آپ لے کرآئے تھے؟‘‘ وہ ہنسے اور بریگیڈیئر قیوم کی طرف اشارہ کر کے کہا ’’یہ ۔۔۔۔۔ مجھے اس نے دیا تھا‘‘ بریگیڈیئر قیوم تڑپ کر سیدھے ہوئے اور کہا ’’میں نے صرف اتنی سفارش کی تھی آپ اسے سیاست میں انٹری دے دو اور تم نے اسے سیدھا وزیر بنا دیا‘ اب بھگتو‘‘ جنجوعہ صاحب یہ سن کر قہقہہ لگا کر بولے ’’یہ دونوں اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں‘اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا‘‘ امیر گلستان جنجوعہ میاں نواز شریف کے خلاف تھے‘ ان کا جھکائو بے نظیر بھٹو کی طرف تھا‘ وہ یہ سمجھتے تھے جنرل آصف نواز کی موت میں نواز شریف کا ہاتھ تھا‘ وہ اس سلسلے میں ایک لمبی کہانی بھی سناتے تھے‘ میں وہ کہانی کسی دن آپ کے گوش گزار کروں گا‘ بہرحال ان تاثرات کے بعد وہاں میاں نواز شریف کی سیاست میں انٹری پر بحث شروع ہو گئی‘ بریگیڈیئر قیوم میاں صاحب کے پہلے سفارشی تھے ‘ یہ کون تھے؟ آپ پہلے ان کے بارے میں جان لیجیے۔
بریگیڈیئر عبدالقیوم کشمیری تھے‘ ان کا خاندان قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب سے نقل مکانی کر کے پاکستان آیا اور ایبٹ آباد میں سیٹل ہو گیا‘جنرل یحییٰ خان کے زمانے میں یہ اور امیر گلستان جنجوعہ کرنل جب کہ جنرل جیلانی بریگیڈیئر تھے‘ یہ تینوں جنرل یحییٰ خان کے سٹاف میں شامل تھے‘ بریگیڈیئر جیلانی آئی ایس آئی میں تھے‘ یہ میجر جنرل ہوئے اور جنرل یحییٰ خان نے انہیں ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا‘ یہ آئی ایس آئی کے طویل ترین ڈی جی رہے‘ انہوں نے جنرل یحییٰ خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق تین سربراہوںکے ساتھ کام کیا‘ بھٹو صاحب ان پر بہت اعتبار کرتے تھے اور انہیں بعدازاں اس اعتبار کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی‘ یہ ان سات جرنیلوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر تھے جن میں سے کسی ایک نے جنرل ٹکا خان کے بعد آرمی چیف بننا تھا‘ جنرل جیلانی کی سروس کا زیادہ تر حصہ آئی ایس آئی میں گزر رہا تھا‘ یہ کور کمانڈ نہیں بن سکے تھے چناں چہ یہ آرمی چیف کے لیے کوالی فائی نہیں کرتے تھے‘ جنرل ٹکا اپنے بعد لیفٹیننٹ جنرل اکبر خان کو چیف بنوانا چاہتے تھے‘ جنرل اکبر جنرل جیلانی کو پسند نہیں کرتے تھے‘ یہ جانتے تھے اگر جنرل اکبر آ گئے تو میں فارغ ہو جائوں گا چناں چہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نفسیاتی گیم کر کے جنرل ضیاء الحق کو چیف بنوا دیا (یہ کیسے کیا گیا یہ بھی میں آگے چل کر آپ کو بتائوں گا) جب کہ امیر گلستان جنجوعہ وہ کرنل تھے جو 1969ء میں جنرل یحییٰ خان کے ساتھ ایوان صدر گئے ‘
انہوں نے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان سے استعفیٰ لیا اور بعدازاں (کرنل جنجوعہ) ایوب خان کو ڈرائیو کر کے ان کے ذاتی گھر چھوڑ کر آئے تھے جب کہ بریگیڈیئر قیوم جنرل یحییٰ خان کے دور میں ریڈ (سرخ) کرنل کہلاتے تھے‘ جنرل یحییٰ خان نے صدر بننے کے بعد انہیں کرپٹ بیوروکریٹس کی فہرست بنانے کا حکم دیا تھا‘ کرنل قیوم نے صدر کے حکم پر 303 سینئر بیوروکریٹس کی فہرست بنائی اور صدر نے یک جنبش قلم ان سب کو نوکریوں سے فارغ کر دیا‘ ان میں قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر جیسے افسر بھی شامل تھے‘ 303 کا ہندسہ کرنل قیوم نے منتخب کیا تھا‘ انگریز کے زمانے سے فوج کے پاس سب سے بڑی رائفل 303چلی آ رہی تھی‘ یہ فوجی زبان میں تھری ناٹ تھری کہلاتی تھی‘ کرنل قیوم اس کے فین اور بڑے نشانچی تھے چناں چہ انہوں نے جان بوجھ کر 303 بیوروکریٹس کی فہرست بنائی تاکہ تھری ناٹ تھری کا حوالہ تاریخی ہو جائے اور بیوروکریسی کوہمیشہ کے لیے یہ پیغام مل جائے ہمیں تھری ناٹ تھری کے کرنل نے فارغ کیا تھا‘ یہ فائل ریڈ کلر کی تھی چناں چہ یہ سول بیوروکریسی میں ریڈکرنل کے نام سے مشہور ہوگئے‘ کرنل قیوم پروموٹ ہوئے‘ بریگیڈیئر کے عہدے تک پہنچے‘ ریٹائر ہوئے اور پھر گوشہ گم نامی میں چلے گئے لیکن پھر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء لگا‘ جنرل غلام جیلانی گورنر پنجاب بنے اور بریگیڈیئر قیوم ایک بار پھرمنظر پر آ گئے‘ میاں شریف کا ان سے کیا تعلق تھا یہ آپ اگلے کالم میں ملاحظہ کیجیے گا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خواتین کے لیے خوشخبری، ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ کس طرح حاصل کرسکتی ہیں؟
-
پاکستانیوں کے پاس اسپین کا رہائشی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقع
-
محکمہ موسمیات نے ماہ رمضان کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ڈاکٹر نبیہا کے الزامات پر شوہر حارث کھوکھر کا ردعمل سامنے آگیا
-
ڈاکٹر نبیحہ اور حارث کھوکھر کی ازدواجی زندگی کا معاملہ، نجی ٹی وی چینل کی بریک کے دوران ہونیوالی گفت...
-
’’افغانستان نے طالبان کو دوسری سرحد پر منتقل کرنے کے لیے پاکستان سے 10 ارب روپے مانگے‘‘
-
کروڑوں روپے رشوت دے کر بنائی جانے والی غیر قانونی ہاسنگ کالونیوں کی فہرست جاری
-
پاک-نیوزی لینڈ میچ منسوخ، پاکستان کیلیے سیمی فائنل میں رسائی مشکل
-
ترقیاتی کاموں کے لیے ’’21 کلو سونے کی اینٹیں‘‘ عطیہ! دینے والا گمنام
-
نواز شریف کی سیاست میں انٹری
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر بڑا اضافہ
-
یواےای میں عیدالفطر 2026 کی چھٹیوں کا اعلان
-
خود کش حملے میں شہید لیفٹیننٹ کرنل گلفراز نے سحری کے وقت اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پہ کون سی قرآنی آیات...
-
عمرہ زائرین کی بڑی مشکل آسان ہوگئی





















































