اسلام آباد (نیوز ڈیسک )بھارت میں ایک عجیب و دلچسپ درخت موجود ہے جو عام درختوں کی طرح پھل یا پھول نہیں بلکہ سکوں سے ڈھکا ہوا نظر آتا ہے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ “پیسے درختوں پر نہیں لگتے”، مگر بہار ریاست میں واقع یہ درخت اس کہاوت کے برعکس ایک انوکھا منظر پیش کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسے “منی ٹری” بھی کہتے ہیں۔حقیقت میں اس درخت پر سکے خود نہیں اگتے بلکہ عقیدت مند افراد اپنی خواہشات اور دعاؤں کی قبولیت کی امید میں اس کے تنے پر سکے چپکا دیتے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ روایت صدیوں پرانی ہے اور اب درخت کی چھال پر اتنے سکے لگ چکے ہیں کہ مزید جگہ تقریباً باقی نہیں رہی۔یہ بہیدا کا درخت رتنا گیری کی پہاڑیوں میں وشو شانتی اسٹوپا اور ایک جاپانی بدھ مندر کے قریب واقع ہے، جہاں نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ممالک سے بھی زائرین آتے ہیں۔ عبادات کے بعد لوگ اس درخت کے پاس جا کر منتیں مانگتے اور سکے لگا جاتے ہیں۔
وہاں تعینات ایک اہلکار کے مطابق خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیاں یہاں شادی سے متعلق دعائیں مانگنے آتے ہیں۔ماہر ماحولیات ڈاکٹر اوما کانت سنگھ نے اس عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ درخت کے تنے میں سکے ٹھونسنے سے اس کے قدرتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے پانی کی روانی متاثر ہوتی ہے اور درخت بتدریج کمزور ہو جاتا ہے۔ وارانسی کی ایک طالبہ آیوشی جیسوال نے بھی اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منت کے نام پر آکسیجن فراہم کرنے والے درخت کو نقصان پہنچانا دانشمندی نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ حفاظتی اقدامات کرے، مثلاً رکاوٹیں نصب کی جائیں اور سیاحوں پر ضابطے نافذ کیے جائیں تاکہ درخت محفوظ رہ سکے۔



















































