بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

datetime 19  فروری‬‮  2026 |

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج اداکار تھا‘ اس کا قد چھوٹا‘ رنگ سیاہ اور جسامت پتلی تھی لہٰذا اس کی زندگی کا تین چوتھائی حصہ سٹرگل میں خرچ ہو گیا لیکن پھر 12 اکتوبر 1999ء آیا‘ جنرل پرویز مشرف اقتدار پر قابض ہوئے اور اداکار وسیم انصاری کی لاٹری نکل آئی‘ انصاری کی شکل جنرل مشرف سے ملتی تھی‘

وہ ہوبہو جنرل مشرف لگتا تھا‘وہ مختلف سٹیج اور گلیوں میں جنرل مشرف بن کر رزق کمانے لگا‘ اداکار تھا لہٰذا اس نے جنرل مشرف کے سٹائل اور آواز کی نقل بھی شروع کر دی جس سے اس کی مقبولیت اور آمدنی دونوں میں اضافہ ہوگیا‘ 2002ء میں جیو ٹیلی ویژن سٹارٹ ہوااور اس میں ’’ہم سب امید سے ہیں‘‘ کے ٹائٹل سے سیاسی مزاحیہ پروگرام شروع ہوگیا‘ اسے ڈاکٹر یونس بٹ لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے کا سب سے مشہور سیاسی مزاحیہ پروگرام تھا‘ ہم اگر آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہم اس پروگرام کو پاکستان میں ’’پولیٹیکل سٹائیر‘‘ کا باوا آدام ماننے پر مجبور ہو جائیں گے‘ ڈاکٹر یونس بٹ کو اللہ تعالیٰ نے مزاح نگاری کی بے انتہا صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ ان کا آغاز کالم نگاری سے ہوا لیکن پھر یہ ٹی وی پر گئے اور سرمایہ اور مقبولیت دونوں جی بھر کر کمائے‘ ڈاکٹر یونس کے پروگرام نے بے شمار اداکار اور اداکارائیں متعارف کرائیں جن میں صبا قمر‘ وینا ملک‘ مہوش حیات‘ فضا علی اوروسیم انصاری بھی شامل تھے‘ ڈاکٹر یونس بٹ وسیم انصاری کو جنرل پرویز مشرف کے روپ میں ٹی وی سکرین پر لے کر آئے اور یہ دنوں میں مشہور ہو گیا‘ جنرل پرویز مشرف خود بھی اس کی اداکاری انجوائے کیا کرتے تھے‘ وہ چودھری صاحبان اور پاکستان مسلم لیگ ق کا زمانہ تھا‘ ایف ایٹ اسلام آباد میں چودھری شجاعت حسین کے گھر کے سامنے سڑک تک گاڑیاں ہوتی تھیں‘

میں نے چودھری صاحب کے کمرے کے باہر تک لوگوں کو بیٹھے دیکھا‘ یہ صبح سویرے پہنچ جاتے تھے اور ان کے بیڈ روم کے سامنے بیٹھ کر ان کے اٹھنے کا انتظار کیا کرتے تھے‘ 2005ء میں مجھے ایک رات چودھری صاحبان نے کھانے کی دعوت دی‘ میں ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو سامنے صوفے پر وسیم انصاری جنرل پرویز مشرف بن کر بیٹھا تھا اور چودھری شجاعت‘ چودھری پرویز الٰہی‘ چودھری وجاہت حسین اور ان کے باقی جوڑی دار اس کی اداکاری کو انجوائے کر رہے تھے‘ میں بھی ان میں شامل ہو گیا‘ ہم رات ایک بجے تک وہاں رہے‘ مجھے پتا چلا چودھری صاحب نے وسیم انصاری کو خصوصی طور پر کراچی سے بلایا تھا اور یہ وزیراعلیٰ پنجاب کے طیارے پر اسلام آباد آیا تھا‘ مجھے یہ بھی پتا چلا چودھری صاحبان نے اس کا ماہانہ وظیفہ طے کر رکھا ہے لیکن آپ وقت کا ہیر پھیر دیکھیں‘ ایک وہ وقت تھا جب جنرل پرویز مشرف کی پرچھائی کو بھی خصوصی سلام پیش کیے جاتے تھے‘ جب جنرل مشرف جیسا دکھنے والے اداکاروں کو بھی جہاز بھجوا کر بلایا جاتا تھا لیکن پھر ایک ایسا وقت بھی آگیا جب پانچ فروری 2026ء کو اصلی جنرل پرویز مشرف کی برسی تھی مگر کراچی میں اس کی قبر پر صرف اس کی بیگم اور دو ملازم تھے‘ پھولوں کے ہار بھی صرف دو تھے‘یہ ملازم بھی بیگم صاحبہ کے ساتھ آئے تھے‘ انہوں نے بھی دعا کی اور واپس چلے گئے جب کہ ان لوگوں میں سے کسی شخص کو جنرل مشرف‘ اس کی قبر اور اس کی برسی یاد نہیں رہی جو کبھی اس جیسے دکھنے والے اداکاروں کو بھی سر پر بٹھاتے تھے‘ جنہیں یہ خصوصی جہاز بھجوا کر بلاتے تھے اور اپنی میز پر کھانا کھلاتے تھے‘ وقت بھی کتنی ظالم چیز ہے۔

چودھری صاحبان جنرل پرویز مشرف کے سب سے بڑے بینی فشری تھے‘ جنرل مشرف کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز انہیں اقتدار تک لے کر آئے تھے‘ طارق صاحب ایف سی کالج میں چودھری برادران کے کلاس فیلو رہے تھے‘ ان کے والد سیشن جج تھے‘ ان کا تبادلہ گجرات ہوا تو چودھری شجاعت کے والد چودھری ظہور الٰہی نے ان کے خاندان کی بہت ’’ٹیک کیئر‘‘ کی تھی‘ جنرل مشرف بھی ایف سی کالج کے طالب علم رہے تھے چناں چہ جب یہ صدر بنے تو طارق عزیز ان کے پرنسپل سیکرٹری ہو گئے اور طارق عزیز کی وجہ سے چودھری صاحبان اقتدار تک پہنچ گئے‘ وہ بھی کیا زمانہ تھا بڑے بڑے سیاسی خاندان‘ کھرب پتی بزنس مین اور ہزار ہزار مربع زمین کے مالک جاگیردار جنرل مشرف کو خوش کرنے کے لیے ایسی ایسی گھٹیا حرکتیں کرتے تھے کہ دیکھنے والے شرمندہ ہو جاتے تھے‘ مجھے ایوان صدر راولپنڈی (آرمی چیف ہائوس) کی ایک تقریب یاد ہے‘ اس میں جنرل پرویز مشرف ٹن ہو کر گانا گا رہے تھے‘ وزیراعظم شوکت عزیز مراثیوں کی طرح داد دے رہے تھے اور اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر (یہ محکمہ اس زمانے میں سی بی آر کہلاتا تھا) عبداللہ یوسف ڈانس کر رہے تھے‘ یہ منظر دیکھ کر گلوکارہ کو شرم آ گئی تھی اور اس نے مائیک پر کہہ دیا ’’پلیز کیمرے بند کرا دیں‘‘ لیکن اقتدار اس وقت اس قدر مدہوش تھاکہ اس نے کیمروں تک کی پرواہ نہ کی۔ چودھری پرویز الٰہی کا بیان آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہوگا جس میں‘ چودھری صاحب نے پنجاب اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر4فروری 2007ء کو بڑے غصے سے اعلان کیا تھا ’’ہم 10مرتبہ جنرل پرویز مشرف کو یونیفارم میں صدر منتخب کرائیں گے‘‘ ۔آپ جنرل پرویز مشرف کی طاقت کا بھی اندازہ کیجیے‘

جنرل نے لال مسجد پر فوج چڑھا کر سینکڑوں بچیاں شہید کرا دیں اور آخر میں مدرسہ اور مسجد دونوں مسمار کرا دیں اور مہینوں تک بچیوں کی لاشیں ملبے میں دبی رہیں‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو آرمی ہائوس بلا کر استعفے کا حکم دے دیا اور کراچی میں 12 مئی 2007ء کو ایم کیو ایم کے ذریعے پورے شہر میں لاشیں بچھا دیں اور اس شام اسلام آباد میں حکومت کی اس عظیم فتح کا جشن منایا اور جنرل نے مکے لہرا کر کہا ’’کراچی میں عوام نے طاقت دکھا دی‘‘ لیکن پھر وقت کا پھیر دیکھیں‘ یہ جنرل مشرف 28جولائی 2007ء کو ابوظہبی میں اس بے نظیر بھٹو کے سامنے بیٹھا جس کے بارے میں یہ کہتا تھا ’’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘‘ پھر اس نے سیاست دانوں کو این آر او دیا‘ پھر اس کا یونیفارم اترا‘ پھر اس نے صدارت سے استعفیٰ دیا اور پھر وہ پوری دنیا میں خوارپھرتا رہا‘ یہ آخری عمر میں لاعلاج خوف ناک مرض کا شکار ہو گیا‘ اس کے جسم نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا‘ اس کی ریڑھ کی ہڈی کے سرے پر انجیکشن لگتا تھا اور وہ درد سے بلبلاتا تھا‘ وہ وقت اس نے بہت اذیت میں گزارہ‘ وہ اپریل 2013ء میں پاکستان میں گرفتار بھی ہو گیا‘ جنرل راحیل شریف اگر اس کی مدد نہ کرتے تو شاید اس کی باقی زندگی جیل میں گزرتی‘ بہرحال جنرل راحیل شریف نے اسے دوبارہ باہر بھجوا دیا لیکن وہاں پہنچ کر وہ ایک ایسی اذیت ناک بیماری میں مبتلا ہو گیا جس کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا یوں جنرل پرویز مشرف پانچ فروری 2023ء کودوبئی میں انتقال کر گیا‘ میت کو کراچی لایا گیا اور فوج کے قبرستان میں پورے اعزاز کے ساتھ دفن کر دیا گیا‘ فوج نے اپنے سابق چیف کو سلامی بھی پیش کی لیکن پہلی‘ دوسری اور تیسری برسی گزر گئی مگر ان میں سے کوئی شخص اس کی قبر پر نہیں آیا جو اسے دس مرتبہ یونیفارم میں صدر منتخب کرانا چاہتے تھے اور اس کی اداکاری کرنے والے اداکار کے سامنے بھی ہاتھ باندھ کر بیٹھتے تھے۔

آپ ایک اور المیہ بھی ملاحظہ کیجیے‘ جنرل پرویز مشرف نے چک شہزاد اسلام آباد میں گھر بنوایا تھا‘ یہ آرمی چیف ہائوس کی کاپی تھا‘ اس کا خیال تھا یہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آرمی چیف ہائوس جیسے گھر میں رہیں گے لیکن یہ اس گھر میں بھی محض چند ماہ رہ سکے اور وہ دور بھی ہائوس اریسٹ تھا‘ گیٹ پر جیل کا عملہ بیٹھتا تھا اور کوئی اندر داخل ہو سکتا تھا اور نہ باہر نکل سکتا تھا‘ یہ گھر اس کے بعد انہیں دوبارہ نصیب نہیں ہو سکا‘ بیگم صہبا مشرف نے خاوند کے انتقال کے بعد وہ بیچ دیا‘ اب اس میں کون رہتا ہے کوئی نہیں جانتا اور اس کے بعد اس میں کون رہے گا یہ بھی کوئی نہیں جانتا‘ افسوس جنرل پرویز مشرف کو بھی اپنے خدا ہونے کا یقین تھا لیکن وہ بھی اب اپنے اس یقین کے ساتھ قبرستان میں لیٹا ہے جب کہ اسے دس دس مرتبہ یونیفارم میں صدر منتخب کرانے والے ہسپتالوں کے بستروں پر لیٹ کر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں‘ یہ ہے ان لوگوں کا انجام جنہیں اپنے خدا ہونے کا یقین تھا‘ کاش آج کے خدا بھی اس انجام کا اندازہ کر سکیں۔

موضوعات:



کالم
19  فروری‬‮  2026
12  فروری‬‮  2026
10  فروری‬‮  2026
8  فروری‬‮  2026
5  فروری‬‮  2026
3  فروری‬‮  2026
1  فروری‬‮  2026
29  جنوری‬‮  2026

کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…