اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے ملک میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے لیے اہم اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے،
جن کا مقصد صنعتکاروں اور نجی شعبے کو غیر ضروری دباؤ اور مداخلت سے محفوظ بنانا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سیلز ٹیکس کے سرکاری معاملات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے سفارش کی ہے کہ قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک سے آنے والی سرمایہ کاری کو اضافی جانچ پڑتال سے مستثنیٰ رکھا جائے اور ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے کی بلاجواز مداخلت محدود کی جائے۔ ساتھ ہی یہ تجویز بھی زیرِ غور ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کا اختیار وزیرِاعظم آفس کو دیا جائے۔حکام کے مطابق سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز تیار کر لی گئی ہیں۔ ان میں یہ بھی شامل ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر مالیاتی اداروں کے ذریعے آنے والی رقوم پر مزید اسکروٹنی نہ کی جائے۔دستاویز کے مطابق سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ایس ای سی پی کے قوانین میں ترامیم کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت کسی ریگولیٹڈ ادارے کے خلاف کارروائی سے پہلے ایس ای سی پی کی منظوری لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔
مزید برآں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو گرفتاری یا سرمایہ ضبط ہونے جیسے خدشات سے بچانے کے لیے قانونی تحفظ دینے اور نائیکوپ ہولڈرز کو بھی غیر ملکی سرمایہ کار کے برابر حقوق دینے کی سفارش کی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہونے اور معیشت کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔



















































