ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے پرغورشروع کردیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے مرکز کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو پاٹا طرز پر خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے ممکنہ اقدام کے پیش نظر انضمام مرحلہ وار کرنے کے فارمولے پر غور شروع کر دیا جس کے تحت7 قبائلی ایجنسیوں کو3 مراحل میں پختونخوا کا حصہ بنایا جائیگا جبکہ ایف آر علاقوں کو متعلقہ اضلاع میں پہلے مرحلہ میں ضم کیا جائیگا۔قبائلی علاقوں کو پختونخوا میں ضم کرنے کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں بائیسواں آئینی ترمیمی بل بھی جمع کرایا جا چکا ہے جبکہ اعلیٰ سطح پر بھی اس بات کا جائزہ لیاجارہا ہے اور فاٹا کو الگ صوبہ بنانے یا دیگر آپشنزکی طرف جانے کی بجائے غالب امکان یہی ہے کہ اسے پختونخوا میں ضم کیا جائیگا تاہم قبائلی علاقوں کو بندوبستی حیثیت نہیں ملے گی اور یہ صوبہ کے زیرانتظام قبائلی علاقہ (پاٹا) کے طور پرگورنراور صدر پاکستان کے ہی کنٹرول میں رہے گاجہاں قوانین کا نفاذ بھی صدر پاکستان کی منظوری سے ہوگا۔پہلے مرحلے میں آئندہ سال کے اوائل میں خیبر اور مہمند ایجنسیوں کو ضم کیا جائے جبکہ چھ ایف آر علاقے جن میں ایف آرپشاور، لکی مروت، بنوں، ڈی آئی خان، کوہاٹ اور ٹانک شامل ہیں انھیں بھی متعلقہ اضلاع میں ضم کیا جائیگا۔ آئندہ سال کے اواخر میں مزید3 قبائلی ایجنسیاں باجوڑ، کرم اور اورکزئی ایجنسی کو ضم کیا جائیگا جبکہ آخری مرحلے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کا انضمام ہو گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سارا عمل 2018 ء تک مکمل ہوگا، امکان ہے22واں آئینی ترمیمی بل پیش ہونے پر سلیکشن کمیٹی کے حوالے کیا جائیگا اور سلیکٹ کمیٹی میں تمام امور طے کرنے کے بعد قومی اسمبلی سے منظوری لی جائیگی جس کے بعد سینیٹ سے منظوری کے بعد اسے صدر پاکستان کے پاس منظوری کیلیے ارسال کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…