کراچی(این این آئی)گل پلازہ سانحہ میں زندہ بچ جانے والے ایک نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ دکان سے موقع ملنے کے باوجود کچھ لوگ باہر نہ نکلے۔سانحہ گل پلازہ کو نواں دن ہے، تاہم اب تک ریسکیو اور سرچ آپریشن مکمل نہیں ہو سکا ہے جب کہ جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 73 ہو چکی ہے۔گل پلازہ آتشزدگی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی کئی ویڈیوز گشت کر رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک وائرل ویڈیو میں وہاں کام کرنے والے ایک نوجوان نے اپنے بچ جانے کی جدوجہد کے ساتھ دبئی کراکری میں 30 افراد کے زندہ جلنے کے واقعہ سے پردہ اٹھاتے ہوئے سنسنی خیز دعوی کیا ہے۔نوجوان نے بتایا کہ وہ میزنائن پر ایک دکان میں کام کرتا ہے اور حادثے والے روز وہ معمول کے مطابق رات 10 بجے دکان بند کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک نیچے سے دھواں آنا شروع ہو گیا۔ ہم نے سمجھا کہ معمول کے مطابق ایک دو دکانوں میں آگ لگی ہوگی۔
نوجوان نے مزید بتایا کہ جب کہ پانچ منٹ میں دھواں بہت زیادہ پھیل گیا تو ہم جیسے تیسے دکان بند کر کے باہر نکلے تو زہریلے دھوئیں کے باعث دماغ مائوف ہو چکا تھا۔ ہماری دکان کے بہت قریب ریمپ ہے، جو کھلا ہوا تھا۔ لیکن ہم وہاں جانے کے بجائے ایک دوسرے راستے پر چلے گئے، لیکن آدھے راستے سے واپس آئے کیونکہ سب بتا رہے تھے کہ وہ راستہ بند ہے۔ اسی دوران دھواں بہت زیادہ بڑھ گیا۔ پورے فلور پر افراتفری اور چیخ وپکار شروع ہوگئی۔نوجوان نے دعوی کیا کہ اس موقع پر بہت سارے لوگ بچنے کے لیے دبئی کراکری کی دکان کی جانب چلے گئے، جہاں سے 25 سے 30 لاشیں ملی ہیں۔نوجوان نے کہاکہ شاید وہ بھی وہیں چلا جاتا، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور سوچا کہ اس وقت دکان پر جانے کا کام نہیں بلکہ باہر نکلنا ہے۔
ہم نے ہمت کر کے مسجد کا گیٹ توڑا۔اس نے دعوی کیا کہ اس موقع پر ہمارے دو ساتھی دبئی کراکری گئے اور بتایا کہ مسجد کا گیٹ کھل چکا ہے، آپ سب وہاں سے آ جائیں لیکن انہوں نے ہمت نہ کی اور شاید یہ سمجھے کہ آگ صرف نیچے لگی ہے اور اوپر تک نہیں آئے گی اور انہیں ریسکیو کر لیا جائے گا۔نوجوان نے یہ بھی دعوی کیا کہ آگ لگنے کے بعد ہم آدھے گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد پلازہ سے جانیں بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم اس واقعہ میں ہماری دکان کے سیٹھ جاں بحق ہو گئے۔















































