بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ہر پاکستانی خود کو پہلے سے زیادہ غریب کیوں سمجھ رہا ہے؟ سروے رپورٹ میں بڑا انکشاف

datetime 20  جنوری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)اوسط آمدنی میں اضافے کے باوجود ہر پاکستانی خود کو مالی طور پر کمزور اور غریب کیوں محسوس کررہا ہے، ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامکس کی سروے رپورٹ نے ڈیٹا جاری کردیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وطن عزیز جامع ترقی کے بجائے اس کی مخالف سمت میں بڑھ رہا ہے۔یہ سروے تیکنیکی طور پر مضبوط ہے، 32 ہزار گھرانوں پر مشتمل شہری و دیہی علاقوں اور تمام معاشی طبقات کی نمائندگی کرتا ہے اور پہلی بار مکمل طور پر ڈیجیٹل بنیادوں پر کیا گیا۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ حکومت کے ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران شہریوں کی اوسط آمدنی میں 97 فیصد اضافہ ہوا جب کہ 2019 سے 2025 تک گھریلو اخراجات 113 فیصد بڑھ گئے، ملک میں اوسطا ماہانہ آمدن 82 ہزار اور اخراجات 79 ہزار روپے ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھوک، غربت نہیں قومی ایمرجنسی بنتی جا رہی ہے اور ہر چار میں سے ایک پاکستانی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔سروے کے مطابق اخراجات میں سب سے زیادہ فرنشنگ، گھریلو آلات، ہیلتھ، فوڈز، گڈز اینڈ سروسز پر ریکارڈ کیے گئے، بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ذاتی ملکیتی گھروں کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے ہر چار میں سے ایک گھرانے کو مناسب خوراک میسر نہیں جبکہ صرف چھ برس میں غذائی عدم تحفظ میں 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال شہری علاقوں میں ہے جہاں مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کم کر دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور سندھ شدید متاثر ہیں مگرحیرت انگیزطور پر پنجاب سستی روٹی جیسے منصوبوں کے باوجود بھوک پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ ماہرین نے کرونا، 2022 کے تباہ کن سیلاب اور مسلسل مہنگائی کو اس کا سبب قرار دیا ہے۔سروے کے مطابق مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر)کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جو 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔پاکستان میں قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…