بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ونڈر بوائے

datetime 15  جنوری‬‮  2026 |

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت پاشا‘ اسماعیل انور پاشا اور احمد جمال پاشا‘ آج اگر عثمانی سلطنت کا وجود نہیں ہے تو اس کے ذمے دار یہ تین پاشا ہیں‘ پہلی جنگ عظیم سے قبل ان تینوں نے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کواپنے شکنجے میں لے لیا تھا‘ طلعت پاشا وزیراعظم تھا‘ اسماعیل انور پاشا وزیر داخلہ اور کمانڈر انچیف جب کہ احمد جمال پاشا نیول چیف اور شام کا گورنر جنرل تھا‘ عثمانی سلطنت اس زمانے میں رقبے اور وسائل کے لحاظ سے دنیا کی کتنی بڑی سٹیٹ تھی آپ اس کا اندازہ فوج سے لگا لیجیے‘ عثمانیوں کی فوج ساڑھے 26 لاکھ جوانوں اور افسروں پر مشتمل تھی‘ یہ تینوں پاشا ایک ایک کر کے محل میں داخل ہوئے اورآخری مضبوط بادشاہ سلطان عبدالحمید کو گھیرے میں لیااور آہستہ آہستہ اسے بے بس اور بے اختیارکرتے چلے گئے‘ سلطان جنگوں سے بچنا چاہتا تھا لیکن یہ لوگ اپنی جسٹی فکیشن کے لیے ریاست کو بلاوجہ جنگوں میں گھسیٹتے چلے گئے‘ بادشاہ ملک کو بچانا چاہتا تھا لیکن پاشا اسے تباہ کرنا چاہتے تھے‘ بادشاہ نے ملک کا پہلا آئین بنایا‘ پارلیمنٹ تشکیل دی‘ اخبارات اور رسائل شروع کرائے اور لوگوں کو آزادی دی لیکن پاشائوں نے کسی چیز کو چلنے نہیں دیا یہاں تک کہ انہوں نے مفتی اعظم کی مدد سے بادشاہ کو 1909ء میں معزول اور جلاوطن کر دیاجس کے بعد وہ بے چارہ عسرت اور ذلالت کی زندگی گزار کر 1918ء میں فوت ہو گیا‘ پاشا اس کے بعد اس کے بیٹے محمدرشاد کو ونڈر بوائے بنا کر لے آئے‘ شہزادے کا نام تبدیل کر کے سلطان محمد الخامس کر دیا گیا‘ نیا سلطان فضول خرچ‘ عیاش اور شرابی تھا‘ پاشائوں نے اس کی عیاشی اور نالائقی دکھا کر ’’کمیٹی آف یونین اینڈ پراگریس‘‘ بنائی اور سلطان کے تمام اختیارات کمیٹی کو دے دیے اور کمیٹی میں صرف یہ تین پاشا تھے گویا سلطان کے تمام اختیارات قانونی طور پر ان کے ہاتھ میں تھے۔

تاریخ ثابت کرتی ہے ملک کا اختیار جب بھی کسی فوجی کمانڈر کے ہاتھ میں آتا ہے تو جنگ ضرور ہوتی ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ جنگ کے دوران تمام اختیارات کمانڈر انچیف کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں‘ یہ مقدس شخصیت بن جاتا ہے اور اسے ملک میں کوئی چیلنج نہیں کرتا‘ تینوں پاشائوں نے بھی زیادہ سے زیادہ اختیارات اور خود کو مقدس بنانے کے لیے بے شمار جنگیں چھیڑ دیں‘ بلقان کی جنگ ہوئی اورمشرقی یورپ عثمانیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا‘ اٹلی سے جنگ ہوئی اور لیبیاچلا گیا‘ پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی اور سال بھر میں ترکی کے 10 لاکھ 50 ہزار فوجی مارے گئے‘جنگوں کی وجہ سے ملک معاشی طور پر بھی تباہ ہو گیا‘ یہ تباہی‘ یہ بریادی اور یہ لاشیں سلطان کے دل پر بوجھ بنتی چلی گئیں یہاں تک کہ وہ عوام کا سامنا نہیں کر پاتا تھا‘ اس نے خود کو محل تک محدود کر لیا‘ اس ڈپریشن نے اس کی جان لے لی‘اسے تین جولائی 1918ء کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ فوت ہو گیا‘ پاشائوں کو اس کے بعد ایک ایسا ونڈر بوائے چاہیے تھا یہ جس کے متھے ریاست مار کر خود فرار ہو سکیں‘ اس وقت وحیدالدین نام کا آخری شہزادہ جیل میں مقید تھا‘ یہ سلطان عبدالحمید کا آخری بیٹا تھا اور یہ 57 سال سے جیل میں تھا‘ یہ عثمانی سلطنت کی سب سے طویل قید تھی‘ شہزادہ جیل میں کیوں رکھا گیا تھا؟ اس کی دو وجوہات تھیں‘ اول یہ ریزرو ونڈر بوائے تھا‘ پاشائوں جیسے بااثر لوگوں نے سلطان عبدالحمید کی اولاد سے ایک شہزادہ الگ کر کے جیل میں رکھ لیا تاکہ یہ مشکل وقت میں کام آ سکے‘ دوم حکمران اس کے وجود سے واقف نہیں تھے‘ یہ جیل گیا ‘ سلطان اسے بھول گئے اور یہ صرف پاشائوں جیسے طالع آزمائوں کے کھاتے میں زندہ رہا لہٰذا جوں ہی سلطان محمد الخامس کی آنکھیں بند ہوئیں‘

پاشا سیدھے جیل گئے اور ’’ونڈر بوائے‘‘ کو نکال کر لے آئے‘ شہزادہ وحیدالدین نے مدت بعد سورج اور آزاد لوگ دیکھے تھے‘ وہ سیدھا حمام گیا‘ گرم پانی سے مل مل کر جسم صاف کیا اور پھر شاہی دسترخوان پر بیٹھ کر جی بھر کر کھانا کھایا اور اس کے بعد پاشائوں کی طرف مڑ کر پوچھا ’’بتایے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں‘‘ پاشائوں نے ادب سے عرض کیا ’’آپ ہمارے سلطان ہیں‘‘ ونڈر بوائے نے قہقہہ لگا کر پوچھا ’’پھر میرا تاج اور تخت کہاں ہے؟‘‘ شہزادے کو فوراً سلطان محمد ششم کا نام دے کر تاج پہنا دیا گیا اور اسے تخت پر بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد کیا ہوا؟ اس کے بعد پاشا فرار ہو گئے اور یوں گرتی ہوئی سلطنت کا سارا ملبہ ونڈر بوائے کے سر پر آ گرا‘ جنگ عظیم‘ اس کی تباہی اور لاشوں کے ڈھیر سلطان محمد کے کھاتے میں درج ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ یکم نومبر 1922ء کو اتاترک نے سلطان محمد کے سر سے تاج نوچ لیا اور 600 سال پرانی خلافت کے خاتمے کا اعلان کر دیا‘ سلطان محمد ششم کو شاہی بحری جہاز میں سوار کر کے مالٹا بھجوا دیا گیا‘ وہ سال بھر وہاں رہے وہاں سے شریف مکہ کی دعوت پر مکہ مکرمہ آئے‘ آخری بادشاہ کی حیثیت سے آخری حج کیا‘ وہاں سے سکندریہ (مصر) گئے وہاں سے بھی جھنڈی ہو گئی تو بے سلطنت کے سلطان نے اٹلی کے بادشاہ عمانویل سے پناہ مانگ لی‘ اس نے اجازت دے دی اور یوں عثمانی سلطنت کے آخری سلطان اور ونڈر بوائے نے اٹلی کے شہر سان ریمو میں کرائے پر مکان لے لیا‘ وہ تین سال کی ذلالت کے بعد 16مئی 1926ء کو فوت ہوا‘ اس کی لاش اٹلی سے دمشق لائی گئی اور اسے مسجد سلطان سلیم اول میں دفن کر دیا گیا یوں ونڈر بوائے اپنے تمام ونڈرز کے ساتھ پیوند خاک ہوگیا‘ آپ ستم ظریفی دیکھیے‘ تاریخ آج بھی اسے سلطنت عثمانیہ کے زوال کا ذمہ دار سمجھتی ہے جب کہ اس کے اصل ذمہ دار تین پاشا یعنی تین جنرلزتھے لیکن وہ تینوں اپنی تمام تر حماقتوں اور ناکامیوں کا ملبہ ایک ایسے شخص پر گرا کر چپ چاپ نکل گئے جس نے 57 سال جیل میں گزارے تھے اور جس کی زندگی کی صرف دو خواہشیں تھیں‘ گرم حمام میں گرم غسل اور شاہی دستر خوان پر گرم کھانا اور وہ بے چارہ ان دو خواہشوں کے جرم میں آج تک تاریخ کے پھانسی گھاٹ پرلٹک رہا ہے۔

یہ یاد رکھیں کاروبار سلطنت میں ونڈر بوائز کاروبار چلانے کے لیے اہم نہیں ہوتے پاشائوں کی جان بچانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں‘ طاقت کے کھیل کا تیل طاقت ہوتی ہے‘ یہ جب تک رہتی ہے اس وقت تک کھیل جاری رہتا ہے اور اسے اس وقت تک کسی ونڈر بوائے کی ضرورت نہیں ہوتی‘ ونڈر بوائے بے چارے جیل یا جلاوطنی میں ہوتے ہیں اور یہ عموماً کھیل کے آخر میں گرم غسل اور گرم کھانے کے چکر میں ہمیشہ کے لیے عزت اور زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں‘ میں آپ کو 1971ء کی مثال دیتا ہوں‘ اس وقت جنرل یحییٰ خان پاور گیم کے کپتان تھے‘ یہ کھیل جب بگڑ گیا‘ ملک ٹوٹ گیا‘ 90 ہزار فوجی بھارت کے قبضے میں چلے گئے اور آفیسرز جی ایچ کیو میں آرمی چیف کے گلے پڑے گئے تو پھر جنرل یحییٰ خان نے کیا کیا؟ جنرل اپنے ونڈر بوائے ذوالفقار علی بھٹو کولے آیا اور ونڈر بوائے نے ملبہ اٹھا لیا اور یوں جنرل یحییٰ خان کی جان بچ گئی‘ یہ اس کے بعد ریسٹ ہائوسز اور اپنے گھر میں رہے‘ شراب‘ موسیقی اور گالیاں چلتی رہیں اور وہ یہ تمام مشاغل فرما کر10اگست 1980ء کو فوت ہو گئے اور انہیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سلامی دے کر دفن کر دیا گیا‘ یہ شخص سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھی9 برس زندہ رہا لیکن ملک کی کسی عدالت نے اسے گناہ گار قرار دیا اور نہ سزا دی‘ وہ آخری وقت تک خصوصی حفاظت میں مراعات کے ساتھ زندگی گزارتا رہا‘کیوں؟ کیوں کہ ونڈر بوائے نے اس کا بوجھ اٹھا لیا تھا‘ اس ونڈر بوائے نے بعدازاں آخری زندگی جیل میں گزاری اوروہ پھانسی لگ گیا‘ دوسری مثال جنرل پرویز مشرف ہیں‘

جنرل مشرف نے افغانستان سے لال مسجد تک تباہی کے انبار لگا دیے تھے‘ فوجی افسر یونیفارم کے بغیر دفتر جانے پر مجبور ہو گئے تھے لہٰذا پھر تاریخ دہرائی گئی‘ آصف علی زرداری کو ونڈر بوائے بنا کر لایا گیا‘ جنرل مشرف کو گرتی ہوئی عمارت سے نکالا گیا اور آصف علی زرداری کو اس کے نیچے کھڑا کر دیا گیا اور یوں جنرل مشرف بچ گئے اور پیپلز پارٹی ملبے تلے دفن ہو گئی‘ آج چاروں صوبوں کی زنجیر کہاں ہے اور کیا یہ اسٹیبلشمنٹ اور فارم 47 کے بغیر دس سیٹیں بھی لے سکتی ہے؟ میاں نواز شریف کے ساتھ بھی 2022ء میں یہی ہوا‘ عمران خان بھوت بن کر سڑکوں پر پھر رہا تھا اور آرمی چیف میر صادق اور میر جعفر بن چکا تھا ‘اس کا کیا حل نکالا گیا؟ ونڈر بوائے نواز شریف کو لایا گیاجس کے بعد جنرل باجوہ گھر چلے گئے اور لینڈ مائین نے ونڈر بوائے نوازشریف کی سیاست کے چیتھڑے اڑا دیے‘ آج پارٹی مانے یا نہ مانے لیکن یہ حقیقت ہے نواز شریف مرحوم ہو چکے ہیں‘ یہ اب اپنے آپ کو فیس نہیں کر سکتے‘ یہ اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے ختم ہو چکے ہیں‘ یہ بھی آخری سلطان کی طرح گرم حمام اور گرم کھانے کے عوض اپنی قربانی دے چکے ہیں اور یہ سلسلہ یہاں پر آ کر ختم نہیں ہوتا‘ ابھی ایک اور ونڈر بوائے باقی ہے‘ اس کا نام عمران خان ہے‘ یہ ونڈر بوائے پاشائوں کے مستقبل کی انشورنس پالیسی ہے‘ یہ ونڈر بوائے اس ہائبرڈ سسٹم کی آخری سانس تک جیل میں رہے گا جس دن اس نظام کے ستون اور کڑیاں کھسکیں اس دن اسے جیل سے نکالا جائے گا‘ اسے‘ گرم حمام میں گرم غسل دیا جائے گا‘ اس گرم کھانا پیش کیا جائے گا اور پھر اسے گرتی ہوئی عمارت کے نیچے کھڑا کردیا جائے گا اور یوں ایک اور پیادہ بادشاہ بننے کی خواہش میں مارا جائے گا چناں چہ ونڈر بوائے موجود ہے لیکن یہ ونڈر بوائے چلانے کے لیے نہیں ہے‘ بچانے کے لیے ہے‘ یہ کھیل کے آخر میں جیل سے آئے گا اور جان دے کر چھ سات پاشائوں کو بچائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…