اسلام آبا د(نیوز ڈیسک)پولیس حکام نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ بغیر تصدیق کے سیکنڈ ہینڈ موبائل فون خریدنا انہیں قانونی مسائل میں مبتلا کر سکتا ہے اور تفتیش کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔حالیہ دنوں میں استعمال شدہ موبائل فونز کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، مگر یہ رجحان بعض اوقات خریداروں کے لیے پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ لاہور پولیس کے موبائل ٹریکنگ یونٹ کی حالیہ تحقیقات کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران شہر سے 35 ہزار سے زائد ایسے موبائل فون برآمد کیے گئے جو چوری یا چھینے گئے تھے۔
حکام کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد وہ فونز تھے جو لوگوں نے بغیر کسی تصدیق اور قانونی جانچ پڑتال کے خرید رکھے تھے، جس کے نتیجے میں کئی شہریوں کو بعد میں پولیس کارروائی اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ دکانداروں یا آن لائن پلیٹ فارمز سے سیکنڈ ہینڈ موبائل فون خریدنا نہ صرف خطرناک ہو سکتا ہے بلکہ مالی نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے عوام کو احتیاط برتنے اور موبائل فون کی مکمل جانچ کے بعد ہی خریداری کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اس حوالے سے آل پاکستان موبائل فونز ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر ذیشان خالد نے کہا کہ صارفین کو چاہیے کہ موبائل فون خریدتے وقت اس کا آئی ایم ای آئی نمبر لازمی طور پر تصدیق کریں اور صرف مستند اور رجسٹرڈ دکاندار سے ہی خریداری کریں، تاکہ کسی بھی ممکنہ قانونی پیچیدگی سے محفوظ رہا جا سکے۔















































