بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان بھر میں کل 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا خدشہ

datetime 14  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث صارفین کو سست رفتار کنکشن یا عارضی تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سے منسلک ایک اہم بین الاقوامی سب میرین انٹرنیٹ کیبل پر مرمتی کام طے کیا گیا ہے۔ اس تکنیکی عمل کے باعث 15 جنوری کو ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی نیا ٹیل (Nayatel) نے بتایا ہے کہ یہ مرمتی سرگرمی دوپہر تقریباً 2 بجے شروع ہوگی اور اس کا دورانیہ تقریباً آٹھ گھنٹے متوقع ہے۔ اس دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہو سکتی ہے یا بعض مقامات پر سروس میں رکاوٹ پیش آ سکتی ہے۔

اس حوالے سے نیا ٹیل نے اپنے صارفین کو ای میل کے ذریعے بھی آگاہ کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ مرمت ایک عالمی سطح کی سب میرین کیبل پر کی جا رہی ہے اور یہ کام ناگزیر ہے۔ اگرچہ کیبل کی درست جگہ یا خرابی کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ انہیں انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔

نیا ٹیل سمیت دیگر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس دوران اپنی اہم آن لائن سرگرمیوں کی پہلے سے منصوبہ بندی کر لیں تاکہ ممکنہ تعطل سے کم سے کم متاثر ہوں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان عالمی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے لیے چند ہی سب میرین کیبلز پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ مرمتی کام ناگزیر ہوتے ہیں، تاہم ان کے اثرات براہِ راست صارفین تک پہنچتے ہیں۔ مرمت کے دوران ڈیٹا کو متبادل راستوں سے منتقل کیا جاتا ہے، جس کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ سب میرین کیبلز بین الاقوامی ڈیٹا کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی خرابی براؤزنگ، اسٹریمنگ، آن لائن کام اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات کو متاثر کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…