منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی بغیر ویزا کن ممالک کا سفر کرسکتے ہیں؟

datetime 14  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد محدود تعداد میں ایسے ممالک کا سفر کر سکتے ہیں جہاں ویزا کی پیشگی شرط نہیں یا ویزا آمد پر جاری کیا جاتا ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کی تازہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق سنگاپور ایک بار پھر دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ رکھنے والا ملک قرار پایا ہے۔ اس فہرست کے مطابق سنگاپور کے شہری 192 ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن ارائیول سفر کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر موجود ہیں، جہاں دونوں ممالک کے پاسپورٹ رکھنے والوں کو 188 ممالک تک ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی حاصل ہے۔ اس طرح ایشیائی ممالک نے عالمی سفری آزادی میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

تیسری پوزیشن پر ڈنمارک، لکسمبرگ، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، جن کے پاسپورٹس کے ذریعے 186 ممالک میں بغیر ویزا داخلہ ممکن ہے۔ جبکہ چوتھے نمبر پر یورپ کے 10 ممالک — آسٹریا، بیلجیم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز اور ناروے — موجود ہیں، جن کے شہری 185 ممالک تک ویزا فری سفر کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں اگرچہ پانچ درجوں کی بہتری آئی ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستانی پاسپورٹ اب بھی دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے اور اسے 98ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ پاکستانی شہری اس وقت صرف 31 ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن ارائیول سفر کی سہولت رکھتے ہیں۔

ان ممالک میں مالدیپ، کینیا، نیپال، قطر، روانڈا، سری لنکا، سیشلز اور کمبوڈیا شامل ہیں، جبکہ بعض جزائری ممالک جیسے بارباڈوس، ہیٹی اور مائیکرونیشیا بھی فہرست کا حصہ ہیں۔ تاہم ان ممالک کی ویزا پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلی ہوتی رہتی ہے، اس لیے سفر سے قبل تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے۔

ہینلے انڈیکس کے مطابق سرفہرست پاسپورٹس کی اکثریت یورپی ممالک کی ہے، تاہم چند غیر یورپی ممالک بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پانچویں، نیوزی لینڈ چھٹے، آسٹریلیا ساتویں، کینیڈا آٹھویں جبکہ ملائیشیا نویں نمبر پر موجود ہے۔

رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر سفری آزادی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے، جہاں طاقتور پاسپورٹس رکھنے والے افراد کو زیادہ سہولت حاصل ہو رہی ہے، جبکہ کمزور پاسپورٹس والے ممالک کے شہریوں کو مزید پابندیوں کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…