ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان سپر لیگ میں 2 نئی ٹیمیں حیدرآباد اور سیالکوٹ شامل ،مجموعی تعداد 8 ہوگئی

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) میں 2 نئی ٹیمیں حیدرآباد اور سیالکوٹ شامل ہوگئیں ، ایف کے ایس گروپ نے ٹیم 175 کروڑ روپے ، اوزی ڈیولپرز نے ٹیم 185 کروڑ روپے میں خرید لی جبکہ علی ترین کے دستبردار ہونے کے بعد بولی میں 9 پارٹیاں شریک تھیں،پی ایس ایل کی ساتویں اور آٹھویں ٹیم مجموعی طور پر 3 ارب 60 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی ہیں۔جمعرات کوایچ بی ایل پی ایس ایل میں دو نئی فرنچائز شامل کرنے کیلئے بولی کا عمل اسلام آباد جناح کنونشن میں مکمل ہوا جس میں دس گروپس نے شرکت کی تاہم علی ترین گروپ نیلامی سے عین وقت پر دست بردار ہوگیا بعدازاں 9 گروپس نیلامی میں شریک ہوئے۔

پی ایس ایل برانڈ ایمبیسڈر وسیم اکرم نے بیس پرائز کا اعلان 110 کروڑ روپے بولی سے آغاز کیا۔پہلے راؤنڈ میں ریزرو پرائس یا کم از کم قیمت ایک ارب دس کروڑ روپے رکھی گئی ، بولی کا آغاز انویریکس نے 111 کروڑ روپے سے کیا تاہم دیگر کمپنیوں نے بولی کی رقم بڑھا کر 125 کروڑ روپے تک پہنچا دی۔اس کے بعد صرف دو کمپنیاں آئی ٹو سی اور ایف کے ایس ہی میدان میں رہ گئیں، آئی ٹو سی نے 142 کروڑ روپے کی بولی لگائی تو ایف کے ایس کے بولی بڑھانے سے بات 155 کروڑ تک جا پہنچی۔یہاں پرزم گروپ نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگا تو ایسا لگنے لگا کہ اب یہ کمپنی بھی بھاری رقم کی بولی لگائیگی لیکن پانچ منٹ کا وقفہ ختم ہوا تو بھی پرزم نے کوئی بولی نہ لگائی۔ اس دوران آئی ٹو سی بولی بڑھاتے بڑھاتے 170 کروڑ پر لے گئی تاہم جب ایف کے ایس نے 175 کروڑ کی بولی لگائی تو کسی بھی بولی دہندہ کے پاس اس کا جواب نہ تھا۔ایف کے ایس گروپ کے نمائندے نے بولی کے بعد منتظمین کو بتایا کہ منصوبہ یہی تھا کہ خالی ہاتھ نہیں جانا۔دوسری ٹیم کیلئے بولی کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا تو ابتدائی قیمت 170 کروڑ روپے رکھی گئی۔ اب میدان میں آٹھ کمپنیاں رہ گئی تھیں، ایم نیکسٹ انکارپوریٹڈ نے پہلی بولی 171 کروڑ روپے کی لگائی۔ رقم بڑھتے بڑھتے 173 کروڑ روپے تک پہنچی تو آئی ٹو سی نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگ لیا،پانچ منٹ کے وقفے کے بعد کمپنی نے 175 کروڑ روپے کی بولی لگائی ۔اس کے بعد مزید بولیاں بھی آئیں اور 178 کروڑ روپے پر جا کر یہ معاملہ انجام تک پہنچتا محسوس ہوا کوئی بھی بولی دہندہ اس سے اوپر جانے کیلئے تیار نظر نہ آتا تاہم اسکرین پر آخری 30 سیکنڈ والا ٹائمر بھی چلنا شروع ہو گیا اور آخری 24 ویں سیکنڈ پر آئی ٹو سی کی طرف سے بولی آئی 180 کروڑ روپے کی۔اب او زی ڈیولپرز نے پانچ منٹ کا وقفہ مانگا۔

پانچ منٹ کے بعد 181 کروڑ روپے کی بولی لگائی ،اس دور ان پھر کوئی بھی زیادہ بولی لگانے کو تیار نہ تھا۔ بولی دہندگان بار بار اپنے موبائل فونز کی طرف دیکھ رہے تھے اور آپس میں بات کر کے سر ہلا رہے تھے۔دوبارہ سے آخری 30 سیکنڈ کا ٹائمر چلنا شروع ہوا، اور 18 ویں سیکنڈ پر آئی ٹو سی سے 182 کروڑ روپے کی بولی آ چکی تھی اس دور ان او زی ڈیولپرز یہ بولی بڑھا کر 185 کروڑ روپے پر لے گئے ا ور اس دور ان کسی بولی دہندہ نے اس سے اوپر کی پیش کش نہ کی۔ یوں بولی کے دوسرے مرحلے میں پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم او آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے او زی ڈیولپرز کے پاس چلی گئی۔ اس گروپ نے ٹیم کے نام کیلئے سیالکوٹ کا انتخاب کیا۔ اس نیلامی کے لیے 10 بولی دہندگان کا انتخاب کیا گیا تھا تاہم جمعرات کو ہونے والی تقریب سے قبل ملتان سلطانز کے سابقہ مالک علی ترین نے بولی کے عمل میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔کامیابی بولی کے بعد اوزیڈ ڈیولپرز کے حمزہ مجید نے ریکارڈ بولی کے حوالے سے بتایا کہ اوزیڈ ڈیولپرز کے حمزہ مجید نے بتایا کہ پہلے سے منصوبہ بندی تھی تاہم فیصلہ عین وقت پر ہوا، ایک بجٹ تھا لیکن بجٹ ذرا اوپر گیا لیکن ہمیں جیت کر جانا تھا۔حمزہ مجید نے اعلان کیا کہ پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم کا نام سیالکوٹ ہوگا۔پی سی بی کے چیئرمین محسن رضا نقوی نے اوزیڈ ڈیولپرز کے حمزہ مجید کو آٹھویں ٹیم کی چابی تھمادی۔پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل کی ساتویں اور آٹھویں ٹیم 10سالہ معاہدے کے تحت نیلام کی گئی ہیں اور دونوں ٹیمیں سالانہ فیس ادا کر کے معاہدہ تجدید کروائیں گی اور ایک سال کی فیس بالترتیب 175 کروڑ اور 185 کروڑ روپے ہے۔دستاویز کے مطابق بولی جیتنے والی فرنچائزز کو 10 برس کیلئے حقوق دئیے جائیں گے جو 2035 تک جاری رہیں گے جبکہ بعد میں فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل (یعنی ترجیحی تجدید کا حق) بھی حاصل ہو گا۔بولی دستاویز کے مطابق پی سی بی نے ہر نئی فرنچائز کو آئندہ پانچ سیزنز کیلئے کم از کم 85 کروڑ روپے فی سیزن آمدن کی ضمانت دی ہے قبل ازیں تقریب کے آغاز پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو 9 کروڑ روپے کی انعامی رقم دی۔ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 85 لاکھ روپے انعام میں دیے گئے۔

کامیاب پارٹیوں کو اختیار تھاکہ وہ راولپنڈی، حیدرآباد، فیصل آباد، گلگت، مظفرآباد اور سیالکوٹ میں سے ٹیموں کے نام منتخب کرسکیں۔واضح رہے کہ پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کے حصول کیلئے مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں سمیت مجموعی طور پر نو خواہشمند فریقین کے بیچ مقابلہ ہوا اس نیلامی میں شامل فریقین کا تعلق مختلف کاروباری شعبوں سے تھا جن میں ٹیلی کام، انرجی، فِن ٹیک، ریئل اسٹیٹ اور ٹیکنالوجی شامل تھیں۔پاکستان کی بڑی ڈیجیٹل ٹیلی کام کمپنی جاز اس نیلامی میں ایک نمایاں نام تھا، یہ پی ایس ایل فرنچائز حاصل کرنے کی جاز کی دوسری کوشش تھی۔اس سے قبل 2015 میں پی ایس ایل کے آغاز پر اس وقت موبی لنک کے نام سے کمپنی بولی میں شریک تھی تاہم کامیابی حاصل نہ کر سکی۔بعد ازاں جاز نے لاہور قلندرز کے ساتھ تین سالہ ٹائٹل سپانسرشپ معاہدہ کیا اور تب سے کرکٹ کے ذریعے اپنی برانڈ مارکیٹنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔توانائی کے شعبے میں سرگرم انویریکس پاکستان کرکٹ اور پی ایس ایل سے پہلے ہی منسلک رہی ،کمپنی نے شمسی توانائی اور کلین موبیلیٹی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔پی ایس ایل کے دوران ”ہمارے ہیرو”سیگمنٹ کے ذریعے کھیل اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اجاگر کرنا ان کی شناخت بن چکا ہے۔ملکی موبائل ٹیکنالوجی برانڈ ویگو ٹیل بھی پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ کی سپانسرشپ کے ذریعے براہِ راست سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔مارکیٹنگ ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک کے شعبے سے وابستہ ولی ٹیک کرکٹ کے ڈیجیٹل حقوق میں دلچسپی رکھتی رہی ہے، کمپنی نے 2014 میں پی ایس ایل کے ڈیجیٹل لائیو سٹریمنگ رائٹس دو برس کے لیے 1 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کیے تھے۔

پرزم اسٹیٹس اینڈ بلڈرزیہ ریئل اسٹیٹ ڈویلپر ایک کنسورشیم کے تحت نیلامی میں شریک رہی جس میں کرپٹو کرنسی ایکسچینج کمپنی XchangeOn بھی شامل ہے جو گذشتہ سیزن میں پی ایس ایل کی سپانسر رہ چکی ہے۔آسٹریلیا میں قائم اوزی گروپ پہلی بار کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا۔ گروپ کے سربراہ کے مطابق وہ دو برس قبل اپنے کاروبار اور خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے تھے او زی کا نام آسٹریلوی معاشرتی اصطلاح سے ماخوذ ہے۔ڈیجیٹل بینکنگ، ادائیگیوں اور کارڈ سلوشنز میں کام کرنے والی عالمی فِن ٹیک کمپنی آئی ٹو سی بھی نیلامی میں شامل نمایاں غیر ملکی اداروں میں سے ایک ہے۔ایف کے ایس گروپ (کنگز مین)یہ ایک متنوع سرمایہ کاری گروپ ہے جو شمالی امریکہ میں کرکٹ کی مختلف ٹیموں کا مالک ہے، گروپ کے پاس ڈی ایف ڈبلیو کنگز مین اور کنگز مین ایکس جیسی ٹیمیں شامل ہیں۔ایم نیکسٹ انکارپوریٹڈ شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والی یہ ٹیکنالوجی اور انوویشن کمپنی پی ایس ایل فرنچائز کی دوڑ میں شامل تھی۔یاد رہے کہ پی ایس ایل فرنچائز کے حصول کا یہ موقع آٹھ برس کے وقفے کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ لیگ 2016 میں اپنے پہلے سیزن کے بعد اب ایک دہائی مکمل کر چکی ہے۔پی ایس ایل کا آغاز ابتدا میں پانچ ٹیموں کے ساتھ ہوا تھا اور اس وقت میچ متحدہ عرب امارات میں کھیلے جاتے تھے۔پی سی بی، جو موجودہ معاہدوں کے تحت پی ایس ایل کا واحد ریگولیٹری ادارہ ہے، پہلے ہی 2026 سے لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا، جس کے تحت ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ ہو جائے گی۔اس سے قبل آخری فرنچائز 2018 میں فروخت کی گئی تھی، جب ملتان سلطانز نیلام ہوئی تھی۔پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…