ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی جعلی ڈگریوں کے اسکینڈل پر آسٹریلوی سینیٹر کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 8  جنوری‬‮  2026 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں جعلی ڈگریوں اور تعلیمی اسناد کے مبینہ اسکینڈلز پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔آسٹریلیا کے معروف جریدے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی تعلیمی نظام سے منسلک جعلی ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کے استعمال پر آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔آسٹریلوی سینیٹر میلکم رابرٹس نے اس معاملے کو آسٹریلیا کے ویزا اور امیگریشن نظام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران 22 جامعات سے ایک لاکھ سے زائد جعلی اسناد برآمد کیں۔ ان کے مطابق یہ جعلی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس بیرونِ ملک ملازمتوں اور ویزا درخواستوں کے لیے استعمال کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق بھارت میں جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس 1,350 سے 7,300 آسٹریلوی ڈالر تک فروخت ہوتے رہے۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ 23 ہزار سے زائد غیر ملکی طلبہ جعلی ڈگریوں کے ساتھ آسٹریلیا میں پکڑے جا چکے ہیں، جس کے بعد ویزا سسٹم کی جانچ مزید سخت کر دی گئی ہے۔دوسری جانب بھارتی جریدہ دی کمیون نے بھی اعتراف کیا ہے کہ مختلف بھارتی ریاستوں میں جعلی اسناد کا کاروبار کرنے والے 11 افراد کو گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا فراڈ کر رہے تھے۔امریکی ادارہ برائے امیگریشن اسٹڈیز کے مطابق امریکی قونصل خانے نے چنئی کو H-1B ویزا فراڈ کا ایک بڑا مرکز قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بھارت میں جعلی ڈگریوں، بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزات کی فروخت ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تعلیمی فراڈ نہ صرف بیرونِ ممالک کی سلامتی بلکہ عالمی تعلیمی اور امیگریشن نظام کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…