ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ایک ڈالر 14 لاکھ 90 ہزار ریال کا ہو گیا ،ایران میں مہنگائی اور کرنسی بحران، 29 افراد ہلاک

datetime 7  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران میں مہنگائی میں ہوشربا اضافے اور قومی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پہلے نو دنوں کے دوران کم از کم 25 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ احتجاج ابتدا میں تہران کے مرکزی بازار سے ابھرا، جہاں ایرانی ریال کی غیر معمولی گراوٹ اور بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو احتجاج پر مجبور کر دیا۔

رفتہ رفتہ یہ مظاہرے مغربی اور جنوبی ایران کے کئی شہروں تک پھیل گئے ہیں۔ اگرچہ ان احتجاجوں کی شدت 2022 اور 2023 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والی ملک گیر تحریک جتنی نہیں، تاہم موجودہ مظاہرے تیزی سے صرف معاشی مسائل تک محدود نہیں رہے بلکہ حکومتی اور مذہبی قیادت کے خلاف نعرے بازی میں بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔

کرد انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار کم عمر افراد شامل ہیں، جن کی عمر 18 برس سے کم تھی، جبکہ ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کے نیٹ ورک HRANA نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 29 تک پہنچ گئی ہے، جن میں دو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ گرفتار افراد کی مجموعی تعداد 1203 بتائی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے مظاہرین کی اموات کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم حکومتی سطح پر یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر ایران کو بین الاقوامی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکا ان کی حمایت کرے گا۔ اس بیان کے ردعمل میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔

معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ایرانی حکومت نے سبسڈی نظام میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت درآمد کنندگان کو دی جانے والی ترجیحی زرِ مبادلہ کی سہولت ختم کر کے عوام کو براہِ راست نقد رقم منتقل کی جائے گی، تاکہ وہ ضروری اشیاء خرید سکیں۔ یہ پالیسی 10 جنوری سے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 29 دسمبر کو مرکزی بینک کے گورنر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، تاہم ان اقدامات کے باوجود ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کا سلسلہ نہ رک سکا۔ منگل کے روز ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال 14 لاکھ 89 ہزار 500 کی سطح تک گر گیا، جو احتجاج شروع ہونے کے بعد تقریباً 4 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی مسلسل گراوٹ عوامی اضطراب میں مزید اضافہ کر رہی ہے، جبکہ حکومتی اقدامات تاحال عوام کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…