بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملوں گا، محمد سہیل آفریدی

datetime 3  جنوری‬‮  2026 |
Sohail Afridi
Sohail Afridi

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے انہیں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا کوئی پیغام یا ہدایت نہیں دی گئی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صوبے سے متعلق امور پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے اور تعلقات میں بہتری کے لیے وہ تیار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی سرکاری تقریب یا اجلاس میں موقع ملا تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات ضرور کریں گے۔

پشاور میں سینئر صحافیوں سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی ذمہ داری عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات میں کوئی قباحت نہیں، لیکن بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنا ایک افسوسناک امر ہے۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ناگزیر ہے اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایسی پالیسی اپنانا ہوگی جو براہ راست عوام کے مفاد میں ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے سازگار ماحول اور حالات کا ہونا ضروری ہے اور پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی سیاسی سرگرمیوں کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور اور آئندہ کراچی کے دوروں کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا اور عمران خان کی رہائی کے لیے عوامی حمایت کو منظم کرنا ہے، کیونکہ عمران خان صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے رہنما ہیں۔

کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت میں بدعنوانی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور شفافیت، میرٹ اور ترقی ان کی حکومت کے بنیادی اصول ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے اعلان کردہ ایک ہزار ارب روپے میں سے اب بھی 700 ارب روپے سے زائد وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکز سے موصول ہونے والی رقوم کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا، کیونکہ ترقی کے عمل سے ہی وہاں عسکریت پسندی کا خاتمہ ممکن ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق امن و امان کی صورتحال صوبائی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔صوبائی ترجیحات پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ خود بھی متحرک ہیں اور اپنی ٹیم سے بھی بھرپور کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں حقیقی تبدیلی لا کر دکھائی جائے گی اور پشاور کو ترقی دی جائے گی، تاہم لاہور کی طرح سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی پی کے تحت ضم اضلاع کے لیے برسوں میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے، جبکہ 700 ارب روپے اب تک واجب الادا ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کے خالص منافع اور دیگر مدات کی صورت میں وفاق پر صوبے کے چار ہزار ارب روپے سے زائد کے بقایاجات بھی ہیں۔



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…