اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وہ بچے جو سوشل نیٹ ورک پر زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میںذہنی بیماریوں کے شکار ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔امریکہ کے شماریات کی رپورٹ کے مطابق بچے جو اپنے دن کے3 گھنٹے سوشل نیٹ ورک جیسے فیس بک،ٹویٹر پر گزارتے ہیں جذباتی،غصے کے تیز اور برے رویہ کے مالک ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2012سے 2013 کے درمیان 56 فیصد بچوں نے 3 گھنٹوں سے زیادو وقت سوشل ویب سائٹ پر گزارا ہے۔اپنے سکول کے دنوں میں 8 فیصد بچے سوشل ویب سائٹس کا ستعمال کرتے ہیں۔ لڑکوں کی نسبت لڑکیاں اپنا زیادہ وقت فیس بک پر گزارتی ہیں اور جذباتی دبا کا شکار ہو جاتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 2012 ءسے 2013 ءمیں 11 فیصد لڑکیوں نے سوشل نیٹ ورک کا استعمال کیا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو بچے اپنا زیادہ وقت سوشل نیٹ ورک پر گزارتے ہیں وہ ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ البتہ سوشل نیٹ ورک افراد کو نزدیک لانے میں اہم ہے مگر بچوں کی ذہنی بیماری کا بھی باعث بن رہا ہے۔ذہنی بیماری کے ساتھ ساتھ سوشل ویب سائٹس سماجی دباﺅ،سائبر بلیکنگ((غنڈہ گردی)،بچوں کی خاندان والوں سے علیحدگی کا بھی سبب ہیں
سوشل میڈیا پر وقت گزارنے والے بچے ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں
-
محکمہ موسمیات نے پہلے روزے سے متعلق پیشگوئی کر دی
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کیسے معلوم کریں؟ پی ٹی اے نے طریقہ بتا دیا
-
سعودی عرب : وزٹ ویزے پر آنے والوں کیلئے بڑی خبر
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
محکمہ موسمیات کی مغربی لہر کے زیر اثر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
،ویلنٹائن ڈے کے روز کار سے نوجوان جوڑے کی لاشیں پراسرار حالت میں برآمد
-
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈکپ کی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ بنا ڈالا
-
شاہد آفریدی اپنے داماد شاہین آفریدی پر شدید برہم
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا
-
پاکستان کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
-
ایپسٹین فائلز میں مذکور 300 شخصیات کی فہرست جاری



















































